میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس وقت تیراہ کا آپریشن اور لوگوں کا زبردستی انخلا بند کمروں کا فیصلہ ہے ،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس وقت تیراہ کا آپریشن اور لوگوں کا زبردستی انخلأ بند کمروں کا فیصلہ ہے جس کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں، بلکہ سیاسی عزائم پورے کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ قابل مذمت ہے: چینی وزارتِ خارجہ
تیراہ میرا گھر ہے
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ تیراہ میرا گھر ہے۔ وہ لوگ میرے ہیں۔ میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔ وہاں پر آج جو کچھ کروایا جا رہا ہے، وہ صرف مجھے میرے موقف پر ڈٹ جانے کی وجہ سے میرے لوگوں کو مجھ سے منحرف کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ ہماری حکومت اپنے لوگوں کے تمام مسائل حل کرنے میں انشاءاللہ کوئی کوتاہی نہیں کرے گی۔ یہ میں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا ہے اور میں انشاءاللہ ثابت بھی کروں گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز نے موبائل پولیس اسٹیشن اینڈ لائسنسنگ یونٹ پراجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا
دہشتگردی کے خلاف جنگ
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم پر زبردستی مسلط کی گئی دہشتگردی، بند کمروں کے فیصلوں میں بدمعاشی سے جاری کردہ ملٹری آپریشن کے تحت لوگوں کا مجبورا انخلاء، ان تمام مظالم کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے کاموں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے زبردستی مداخلت کی جا رہی ہے۔ تمام پروسز کو آہستہ کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کی رجسٹریشن نادرا کر رہا ہے جو کہ وفاقی ادارہ ہے۔ وہاں سے رجسٹریشن میں جان بوجھ کر لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے، اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار چیکنگ اور آنکھ کا سکینر لگا کر لوگوں کو ویریفائی کرنے میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین اور بھارت کے درمیان فری ٹریڈ ڈیل اور دفاعی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے
مجھے بدنام کرنے کی کوشش
انہوں نے کہا کہ مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرنے والے “اپنے اچھے لوگوں” کو متاثرہ لوگوں میں گھسا کر اُن کو اکسا رہے ہیں۔ تیراہ کے لوکل ایم پی اے عبدالغنی آفریدی اور میرے بڑے بھائی جب وہاں پہنچے تو اپنے ٹاؤٹس سے اُن کی بے عزتی کروانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ واپسی میں اُن کے لیے سڑک بند کر کے راستہ تبدیل کروانے پر اُن کی جان کو خطرے میں ڈالا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دھی رانی پروگرام کی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس، اجتماعی شادیوں کی تعداد بڑھا کر 5000 کرنے کی منظوری
امن قائم کرنے کے لئے تعاون کی ضرورت
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ دہشتگردی کی جنگ بند کمروں کے فیصلوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ نیت ٹھیک ہونی چاہیئے اور اعتماد کو بحال رکھنا چاہیئے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر مستقل اور پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔ بند کمروں کے فیصلے زبردستی مسلط کرنے کے پیچھے ہمیشہ عزائم کچھ اور ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ لاجز میں 104 اضافی فیملی سوئٹس کی تعمیر آخری مراحل میں داخل
دیرپا امن کے لئے تجاویز
سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے قومی جرگے میں خیبر پختونخوا کی ہر سیاسی و مذہبی جماعت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے دیرپا امن قائم کرنے کے لئے جو تجاویز پیش کیں، ان پر عمل کروا کر ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ بند کمروں میں فیصلے کرنے والے ذرا نیچے دی گئی تصویر دیکھیں۔ عمران احمد خان نیازی صاحب کو ختم کرنا سب کا ادھورا خواب رہ جائے گا۔ یہ عشق اب کئی نسلوں تک پہنچ چُکا ہے، جو کبھی بھی انشاءاللہ مٹ نہیں پائے گا!!
سوشل میڈیا پر بیان
میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس وقت تیراہ کا آپریشن اور لوگوں کا زبردستی انخلأ بند کمروں کا فیصلہ ہے جس کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں سیاسی عزائم پورے کرنا ہے۔
تیراہ میرا گھر ہے۔ وہ لوگ میرے ہیں۔ میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔ وہاں پر آج جو کچھ کروایا جا رہا ہے وہ صرف مجھے… pic.twitter.com/DAorasmdRo
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) January 15, 2026








