اس بیان کو توہین آمیز اور انتہائی افسوسناک سمجھتا ہوں، نیٹو افواج سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر برطانوی وزیر اعظم کا رد عمل
برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کی مذمت
لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے افغانستان جنگ کے دوران غیر امریکی نیٹو افواج کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی سخت مذمت کی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں غیر امریکی نیٹو فوجی محاذ جنگ سے پیچھے رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا اپنی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو عرب دنیا کے ’’بونا‘‘ سسٹم کے ساتھ جوڑنے کا فیصلہ
کیئر اسٹارمر کا ردعمل
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے اس بیان کو توہین آمیز اور انتہائی افسوسناک سمجھتا ہوں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں کہ ان بیانات سے ملک بھر میں ’شدید دکھ اور تکلیف‘ کا احساس پیدا ہوا۔ برطانوی وزیرِ اعظم نے افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی مسلح افواج کے 457 اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب راشد اقبال نصر اللہ کا سنٹرل جیل لاہور کا دورہ
معافی کا مطالبہ
جب ان سے پوچھا گیا کہ بعض حلقے صدر ٹرمپ سے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کیئر سٹارمر نے اس مؤقف سے اتفاق کا اشارہ دیا تاہم انہوں نے براہِ راست معافی کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میں نے اس طرح کی بات کی ہوتی یا ایسے الفاظ استعمال کیے ہوتے تو میں یقیناً معذرت کرتا‘۔
ٹرمپ کے بیان کی تفصیلات
خیال رہے کہ جمعرات کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہو تو نیٹو اس کے دفاع کے لیے امتحان پر پورا اترے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ کہیں گے کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے اور بھیجے بھی، لیکن وہ ذرا پیچھے رہے، محاذِ جنگ سے کچھ دور‘۔








