موسم کوئی فصل نہیں — یہ فطرت کا فیصلہ ہے
تحریر کا آغاز
تحریر: ملک محمد اسحاق
گزشتہ ہفتے مجھے العین جانے کا موقع ملا۔
وہاں بسنت کو صرف دیکھا نہیں، محسوس کیا۔
ہوا میں ایک خاموش سا پیغام تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور ایران میں عسکری طاقت کا موازنہ: کون ہے زیادہ مضبوط؟
سردی کا بوجھ اور بہار کی دستک
یوں لگتا تھا جیسے متحدہ عرب امارات میں سردی اپنا بوجھ اتار چکی ہے اور بہار آہستہ آہستہ زمین کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
پتوں کے بدلتے رنگوں نے جیسے دل میں سوال جگا دیا۔
موسم گویا بول رہا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: یحییٰ آفریدی اپنی باری پر چیف جسٹس بنیں، ابھی عہدہ قبول نہ کریں: حامد خان کی اپیل
فطرت کا پیغام
فطرت جیسے کہہ رہی ہو کہ ہر اختتام انجام نہیں ہوتا،
کبھی کبھی وہ محض ایک نئے سفر کی ابتدا ہوتا ہے۔
اسی لمحے موسم پر غور شروع ہوا،
اور یہی غور اس تحریر کی بنیاد بنا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کے حوالے سے میئر لندن صادق خان کا بیان بھی آ گیا
موسم اور فطرت
ہمیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ موسم ایک کیلنڈر ہے:
گرمی، سردی، خزاں، بہار — چار خانے، چار حد بندیاں۔
مگر فطرت نے کبھی نصابی جدولوں میں رہنا قبول نہیں کیا۔
موسم محض درجۂ حرارت کا نام نہیں۔
یہ ایک ہدایت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ
خزاں کا پیغام
جب خزاں سائبیریا، اسکینڈینیویا، شمالی یورپ، کینیڈا یا الاسکا میں اترتی ہے تو یہ اداسی نہیں لاتی بلکہ شعور جگاتی ہے۔
یہ ایک اشارہ ہوتی ہے،
ایک تنبیہ،
کبھی اجازت،
اور کبھی صاف حکم۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے جنگ جیت لی ہے اور اب امن جیتنا چاہتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
فطرت کی قربانی
درخت پتے نہیں کھوتے،
وہ انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔
پرندے سردی سے نہیں بھاگتے،
وہ ایک ایسے نقشے کی پیروی کرتے ہیں جو سرحدوں، شہروں اور زبانوں سے بہت پہلے وجود میں آ چکا تھا۔
یوں موسم دراصل زمین پر قدرت کی تحریر بن جاتا ہے۔
بہار اس تحریر کا دوسرا رخ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ فائنل، پاکستان نے 8 وکٹیں سپنرز کے ہاتھوں گنوائیں
بہار کا زیور
بہار کسی میں فرق نہیں کرتی۔
نہ درخت کی عمر پوچھتی ہے،
نہ شاخ کا زخم۔
نئے پتے،
تازہ پھول،
اور ایسی خوشبو جو طب سے پہلے شفا تھی —
یہ سب بہار کی عطا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کینیا میں خاتون نے درخت کو گلے لگانے کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
خزاں کی آمد
مگر بہار ٹھہرتی نہیں۔
اس لیے نہیں کہ وہ ناکام ہو جاتی ہے،
بلکہ اس لیے کہ مسلسل عطا، اللہ رب العزت کے سوا، عطا کرنے والے کو تھکا دیتی ہے۔
یوں خزاں آتی ہے —
ظلم بن کر نہیں،
قربانی بن کر۔
یہ بھی پڑھیں: وزارتِ خزانہ نے غربت میں اضافے کے اعداد و شمار جاری کر دیئے
فطرت کا اعلان
خزاں اور سرما میں درخت ننگے کھڑے ہو جاتے ہیں،
پرندے گھونسلے چھوڑ دیتے ہیں،
جنگل خاموش ہو جاتے ہیں،
اور انسان لکڑی کاٹ کر آگ جلاتا ہے۔
درخت احتجاج نہیں کرتے۔
یہ فطرت کا اعلان ہے کہ
“میں تکلیف سہوں گی تاکہ زندگی باقی رہے۔”
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا میں آئی فون 16 کی فروخت پر پابندی عائد
علم کی طلب
تصوف اسے فنا کہتا ہے،
دین اسے قربانی،
اور فلسفہ اسے خود کو خالی کرنا قرار دیتا ہے۔
یہ وہ سبق ہے جو انسان اکثر وعظ میں بھول جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک کا نظام چلانے کا نسخہ بتا دیا
ہجرت کی حکمت
جب شمالی خطوں میں سردی شدید ہو جاتی ہے تو پرندے گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔
وہ ہجرت کرتے ہیں۔
بار ٹیلڈ گاڈوِٹ، آرکٹک ٹرن، امور فالکن اور ریڈ ناٹ جیسے پرندے ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہیں،
بلا پاسپورٹ،
بلا نقشہ،
بلا موسم ایپ۔
فطرت انہیں ہوا کے راستے دیتی ہے،
مقناطیسی سمتیں سکھاتی ہے،
اور ستاروں کو رہنما بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت میں مسافروں سے بھری گاڑی دریا میں جاگری، 7 افراد لاپتہ
سفر کی حقیقت
کچھ طوفانوں میں کھو جاتے ہیں،
کچھ شکاریوں کا شکار بنتے ہیں،
مگر ہجرت نہیں رکتی۔
کیونکہ یقین ختم ہو جائے تو بھی سفر باقی رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنے کا اعلان
حفاظت کا پیغام
سمندر بھی موسم سنتا ہے۔
وہیلیں، کچھوے اور سالمَن مچھلیاں درجۂ حرارت، خوراک اور نسل کی حفاظت کے لیے ہزاروں میل کا سفر کرتی ہیں۔
یہ رومان نہیں،
یہ حیاتیاتی ذمہ داری ہے۔
خشکی پر بھی یہی قانون نافذ ہے۔
جب بارش رکتی ہے اور گھاس سوکھ جاتی ہے تو ہرن، زیبرا، وائلڈبیسٹ اور ہاتھی چل پڑتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا سولر پینل سکیم کیلئے فنڈز مختص کرنے کا اعلان
سفر کا عزم
راستے میں درندے بھی ہیں،
قحط بھی،
اور انسان بھی۔
کچھ گرتے ہیں،
مگر قافلہ نہیں رکتا۔
کیونکہ رک جانا فنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تشدد کی سازش: بیرسٹر سیف کا ہمارے پر امن احتجاج پر بیان
انسانی ہجرت
پرندے ہوں یا جانور،
سمندر کی مخلوق ہو یا خشکی کی —
سب ایک ہی اصول کے تابع ہیں:
آنے والی نسل کی حفاظت۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: فائرنگ کرنے والی خاتون مقدمے سے بری
انسان کا سوال
یہاں انسان کا سوال جنم لیتا ہے۔
اگر پرندے براعظم پار کر سکتے ہیں،
اگر وہیل سمندر عبور کر سکتی ہیں،
اگر جانور زمین چھوڑ سکتے ہیں —
تو انسان ہجرت سے کیوں گھبراتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: عراق کی سرزمین سے ڈرون حملے، سعودی عرب نے عراقی سفیر کو طلب کر لیا
فطری انتخاب
اگر زمین سرسبز ہو، امن ہو، روزگار ہو تو ٹھہرنا فطری ہے۔
لیکن اگر قحط ہو، خطرہ ہو اور عزت داؤ پر لگ جائے تو چل پڑنا دانش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: YANGO ڈرائیورز ماہانہ کتنے لاکھ کماتے ہیں؟ کیا اس کام میں باہر جانے سے زیادہ کمائی ہے؟
اسلامی تعلیمات
اسلام نے بھی یہی سکھایا۔
رسولِ اکرم ﷺ نے کامل وقار، حکمت اور الٰہی رہنمائی کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی ہجرت فرمائی۔
یہ کمزوری نہیں تھی،
یہ بقا اور مستقبل کی بنیاد تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کیس میں اہم پیش رفت، جسٹس آغا فیصل کو انکوائری کمیشن مقرر کردیا گیا، نوٹیفکیشن جاری
زندگی کا سفر
آخر میں بس یہی حقیقت سامنے آتی ہے:
کچھ منزل تک پہنچ جاتے ہیں،
کچھ راستے میں رہ جاتے ہیں،
مگر زندگی رکتی نہیں۔
کیونکہ زندگی خوف پر نہیں،
حرکت پر یقین رکھتی ہے۔
موسم ظلم نہیں۔
ہجرت کمزوری نہیں۔
اور سفر فرار نہیں۔
سفر زندگی کی اطاعت ہے،
اور جو حکمت، وقت اور حوصلے کے ساتھ چل پڑتا ہے —
وہی آنے والے کل کا وارث بنتا ہے۔
نوٹ
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں








