موسم کوئی فصل نہیں — یہ فطرت کا فیصلہ ہے

تحریر کا آغاز

تحریر: ملک محمد اسحاق

گزشتہ ہفتے مجھے العین جانے کا موقع ملا۔

وہاں بسنت کو صرف دیکھا نہیں، محسوس کیا۔

ہوا میں ایک خاموش سا پیغام تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوجی کی سر عام نریندر مودی کو گالیاں، ویڈیو وائرل ہوگئی

سردی کا بوجھ اور بہار کی دستک

یوں لگتا تھا جیسے متحدہ عرب امارات میں سردی اپنا بوجھ اتار چکی ہے اور بہار آہستہ آہستہ زمین کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔

پتوں کے بدلتے رنگوں نے جیسے دل میں سوال جگا دیا۔

موسم گویا بول رہا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: اکثریتی فیصلے پر عملدرآمد ضروری نہیں، مخصوص نشستوں کے فیصلے میں چیف جسٹس کا اختلافی نوٹ

فطرت کا پیغام

فطرت جیسے کہہ رہی ہو کہ ہر اختتام انجام نہیں ہوتا،

کبھی کبھی وہ محض ایک نئے سفر کی ابتدا ہوتا ہے۔

اسی لمحے موسم پر غور شروع ہوا،

اور یہی غور اس تحریر کی بنیاد بنا۔

یہ بھی پڑھیں: نیپال کے مستعفی وزیراعظم بھی ملک سے فرار، ویڈیو سامنے آگئی

موسم اور فطرت

ہمیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ موسم ایک کیلنڈر ہے:

گرمی، سردی، خزاں، بہار — چار خانے، چار حد بندیاں۔

مگر فطرت نے کبھی نصابی جدولوں میں رہنا قبول نہیں کیا۔

موسم محض درجۂ حرارت کا نام نہیں۔

یہ ایک ہدایت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی نائب صدر نے چینی شہریوں کو ‘گنوار’ کہہ دیا، چین کا سخت ردعمل

خزاں کا پیغام

جب خزاں سائبیریا، اسکینڈینیویا، شمالی یورپ، کینیڈا یا الاسکا میں اترتی ہے تو یہ اداسی نہیں لاتی بلکہ شعور جگاتی ہے۔

یہ ایک اشارہ ہوتی ہے،

ایک تنبیہ،

کبھی اجازت،

اور کبھی صاف حکم۔

یہ بھی پڑھیں: صدر و وزیراعظم کی نئے چینی سال پر مبارکباد، پاک چین دوستی فولادی قرار

فطرت کی قربانی

درخت پتے نہیں کھوتے،

وہ انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔

پرندے سردی سے نہیں بھاگتے،

وہ ایک ایسے نقشے کی پیروی کرتے ہیں جو سرحدوں، شہروں اور زبانوں سے بہت پہلے وجود میں آ چکا تھا۔

یوں موسم دراصل زمین پر قدرت کی تحریر بن جاتا ہے۔

بہار اس تحریر کا دوسرا رخ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راشد نصیر کا یو ٹیوبر عادل راجہ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ، دوسرے دن کی سماعت

بہار کا زیور

بہار کسی میں فرق نہیں کرتی۔

نہ درخت کی عمر پوچھتی ہے،

نہ شاخ کا زخم۔

نئے پتے،

تازہ پھول،

اور ایسی خوشبو جو طب سے پہلے شفا تھی —

یہ سب بہار کی عطا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور حکومت کی کفایت شعاری مہم، کالم نویس خالد مسعود خان نے ساری کہانی بے نقاب کردی

خزاں کی آمد

مگر بہار ٹھہرتی نہیں۔

اس لیے نہیں کہ وہ ناکام ہو جاتی ہے،

بلکہ اس لیے کہ مسلسل عطا، اللہ رب العزت کے سوا، عطا کرنے والے کو تھکا دیتی ہے۔

یوں خزاں آتی ہے —

ظلم بن کر نہیں،

قربانی بن کر۔

یہ بھی پڑھیں: 12 سالہ لڑکی پر 80 برس کے بزرگ کے قتل کے الزام میں مقدمہ درج

فطرت کا اعلان

خزاں اور سرما میں درخت ننگے کھڑے ہو جاتے ہیں،

پرندے گھونسلے چھوڑ دیتے ہیں،

جنگل خاموش ہو جاتے ہیں،

اور انسان لکڑی کاٹ کر آگ جلاتا ہے۔

درخت احتجاج نہیں کرتے۔

یہ فطرت کا اعلان ہے کہ

“میں تکلیف سہوں گی تاکہ زندگی باقی رہے۔”

یہ بھی پڑھیں: ایک شخص قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکا، یہ واضح ہے جو وہ چاہتا ہے وہ نہیں ہو سکتا : ڈی جی آئی ایس پی آر

علم کی طلب

تصوف اسے فنا کہتا ہے،

دین اسے قربانی،

اور فلسفہ اسے خود کو خالی کرنا قرار دیتا ہے۔

یہ وہ سبق ہے جو انسان اکثر وعظ میں بھول جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین ماڈرن وار فیئر یونیورسٹی ہے، پاکستان وہاں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے اور بھارت ابھی پہلی جماعت میں داخلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے، تجزیہ کار عثمان شامی

ہجرت کی حکمت

جب شمالی خطوں میں سردی شدید ہو جاتی ہے تو پرندے گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔

وہ ہجرت کرتے ہیں۔

بار ٹیلڈ گاڈوِٹ، آرکٹک ٹرن، امور فالکن اور ریڈ ناٹ جیسے پرندے ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہیں،

بلا پاسپورٹ،

بلا نقشہ،

بلا موسم ایپ۔

فطرت انہیں ہوا کے راستے دیتی ہے،

مقناطیسی سمتیں سکھاتی ہے،

اور ستاروں کو رہنما بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کتاب سے دوبارہ رشتہ جوڑنے سے ہی قوم کا حال اور مستقبل بہتر ہوگا: چیئرمین پیمرا سلیم بیگ

سفر کی حقیقت

کچھ طوفانوں میں کھو جاتے ہیں،

کچھ شکاریوں کا شکار بنتے ہیں،

مگر ہجرت نہیں رکتی۔

کیونکہ یقین ختم ہو جائے تو بھی سفر باقی رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد اور بیجنگ میں کیا تفصیلات طے ہورہی ہیں؟ صالح ظافر نے اہم انکشاف کر دیا

حفاظت کا پیغام

سمندر بھی موسم سنتا ہے۔

وہیلیں، کچھوے اور سالمَن مچھلیاں درجۂ حرارت، خوراک اور نسل کی حفاظت کے لیے ہزاروں میل کا سفر کرتی ہیں۔

یہ رومان نہیں،

یہ حیاتیاتی ذمہ داری ہے۔

خشکی پر بھی یہی قانون نافذ ہے۔

جب بارش رکتی ہے اور گھاس سوکھ جاتی ہے تو ہرن، زیبرا، وائلڈبیسٹ اور ہاتھی چل پڑتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں آدمی کی تیسری بیوی نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کروا دیا

سفر کا عزم

راستے میں درندے بھی ہیں،

قحط بھی،

اور انسان بھی۔

کچھ گرتے ہیں،

مگر قافلہ نہیں رکتا۔

کیونکہ رک جانا فنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت کا ہری پور میں نیا ‘کے پی ہاؤس’ بنانے کا فیصلہ

انسانی ہجرت

پرندے ہوں یا جانور،

سمندر کی مخلوق ہو یا خشکی کی —

سب ایک ہی اصول کے تابع ہیں:

آنے والی نسل کی حفاظت۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکساس میں شدید بارشوں اور سیلاب سے 24 افراد ہلاک متعدد لاپتا

انسان کا سوال

یہاں انسان کا سوال جنم لیتا ہے۔

اگر پرندے براعظم پار کر سکتے ہیں،

اگر وہیل سمندر عبور کر سکتی ہیں،

اگر جانور زمین چھوڑ سکتے ہیں —

تو انسان ہجرت سے کیوں گھبراتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ضمنی انتخاب میں کامیاب ن لیگی امیدواروں کو مبارک باد

فطری انتخاب

اگر زمین سرسبز ہو، امن ہو، روزگار ہو تو ٹھہرنا فطری ہے۔

لیکن اگر قحط ہو، خطرہ ہو اور عزت داؤ پر لگ جائے تو چل پڑنا دانش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی اور مصر 13 برس بعد پہلی بار مشترکہ بحری مشقیں کریں گے

اسلامی تعلیمات

اسلام نے بھی یہی سکھایا۔

رسولِ اکرم ﷺ نے کامل وقار، حکمت اور الٰہی رہنمائی کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی ہجرت فرمائی۔

یہ کمزوری نہیں تھی،

یہ بقا اور مستقبل کی بنیاد تھی۔

یہ بھی پڑھیں: صدر، وزیراعظم ملاقات: سیاسی، معاشی اور خارجہ امور پر تبادلہ خیال

زندگی کا سفر

آخر میں بس یہی حقیقت سامنے آتی ہے:

کچھ منزل تک پہنچ جاتے ہیں،

کچھ راستے میں رہ جاتے ہیں،

مگر زندگی رکتی نہیں۔

کیونکہ زندگی خوف پر نہیں،

حرکت پر یقین رکھتی ہے۔

موسم ظلم نہیں۔

ہجرت کمزوری نہیں۔

اور سفر فرار نہیں۔

سفر زندگی کی اطاعت ہے،

اور جو حکمت، وقت اور حوصلے کے ساتھ چل پڑتا ہے —

وہی آنے والے کل کا وارث بنتا ہے۔

نوٹ

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...