حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی: وزیراعظم کا ایوارڈ حاصل کرنے والے تاجروں کو بلیو پاسپورٹ دینے کا اعلان
پاکستان کی معیشت میں استحکام
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے، برآمد کنندگان نے انتہائی مشکل حالات میں ایکسپورٹ میں اضافہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر کے سکولوں میں پاک فوج سے اظہار یکجہتی اور یوم تشکر منایا گیا، ننھے بچوں کی امن اور اپنے ہیروز کی سلامتی کے لیے دعائیں
ایکسپورٹرز کی تعریف
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ملک کے نامور ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کی تقریب میں شرکت باعث فخر ہے، عظیم پاکستانیوں نے شبانہ روز محنت سے ایکسپورٹس میں میدان مارا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے، آپ لوگوں نے مشکل حالات میں ایکسپورٹس میں اضافہ کیا، آپ نے خطرات مول لیکر پاکستان کیلئے اربوں ڈالرز کمائے، پوری قوم آپ تمام ایکسپورٹرز کی احسان مند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے لیے خاموش سفارتکاری؟ امریکہ سے اب کی بار تازہ کاوشوں کے سلسلے میں پاکستان پہنچنے والوں کا پتہ چل گیا
معاشی چیلنجز اور آئی ایم ایف
ان کا کہنا تھا کہ عظیم کاروباری شخصیات نے شبانہ روز محنت سے ملک کا نام روشن کیا، باتیں چل رہی تھیں کہ پاکستان خدانخواستہ ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے، کچھ لوگوں نے ٹویٹس میں لکھ دیا تھا کہ ملک ٹیکنیکلی ڈیفالٹ کر چکا، میری 2023 میں پیرس میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات ہوئی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے مجھے کہا اس وقت نیا اسٹرکچر آفر کرنا بہت مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں ماں کا چیک اپ کرانے کے لیے ہسپتال آنے والا نوجوان سیکیورٹی گارڈ کے مبینہ تشدد سے جاں بحق
سری لنکا کی صورتحال
شہباز شریف نے کہا کہ سری لنکا ہمارادوست ملک ہے، سری لنکا اس وقت ڈیفالٹ سے دوچار ہوچکا تھا، سری لنکا میں ڈیفالٹ کے بعد سڑکوں پر مظاہرے ہو رہے تھے، سری لنکا کے صدر نے کہا آپ میرے ساتھ ایم ڈی آئی ایم ایف کے پاس چلیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ عمران کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں، انکی ٹیم سے بانی پی ٹی آئی کے کیس پر بات کرونگا: ذلفی بخاری
حکومتی اقدامات
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے دوبارہ بات کی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا آپ پروگرام درمیان میں ادھورے چھوڑ جاتے ہیں، میں نے یقین دلایا کہ ہم آئی ایم ایف معاہدے پر ضرورعملدرآمد کریں گے، جس پر ایم ڈی آئی ایم ایف نے مجھے کہا آپ کیلئے شارٹ ٹرم پروگرام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بالکل ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، ہم نے مشکل فیصلے کر کے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، پوری قوم نے قربانی دی، غریب آدمی نے مشکلات کا سامنا کیا، پالیسی ریٹ 22 فیصد تھا، ملک میں ایک کہرام کی کیفیت تھی، پاکستان کے صنعتکاروں نے بھی مشکلات کا سامنا کیا، تاجروں اور صنعتکاروں نے نقصانات برداشت کئے۔
یہ بھی پڑھیں: درجنوں ڈینگی کیسز پنجاب میں رپورٹ ہوئے
معاشی استحکام کا دور
ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستانی معیشت میں استحکام آچکا ہے، آج مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں ہے، پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پر ہے، صنعتکار وزیر خزانہ کے مشوروں پر عمل کریں اور تگڑے ہو کر فیصلے کریں۔
شہباز شریف نے کہا کہ دوست ممالک کے قرضوں کی وجہ سے ہمارے فارن ایکسچینج ریزروڈبل ہوئے، ہم نے قرض کیلئے دوست ممالک سے درخواستیں کیں، جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سر ہمیشہ جھکا ہوتا ہے، چین نے ہمارے اربوں ڈالر رول اوور کئے، چائنہ نے ہمیشہ مشکل ترین وقت میں مدد کی۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم دنیا کو مشترکہ اقتصادی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا گلوبل مسلم بزنس فورم سے خطاب
دوستانہ تعاون
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور قطر نے بھی ہمارا مشکل وقت میں ساتھ دیا، ہماری معیشت میں استحکام آچکا لیکن یہ کافی نہیں، آج پاکستان میں مہنگائی اور بیروزگاری بڑھ گئی ہے، آج کئی ممالک میں مصنوعات کی قیمتیں پاکستان سے کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے روکنے کا معاملہ، علیمہ خان نے ایک بار پھر اڈیالہ روڈ پر دھرنا دے دیا
کاروباری اقدامات
انہوں نے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پر آیا، پالیسی ریٹ میں مزید کمی نہ ہوئی تو تمام صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لایا جاسکتا، کمیٹیز چیئرمین کیلئے پرائیویٹ سیکٹرز سے بہترین لوگوں کا انتخاب کیا، دنیا میں کہیں بھی گورنمنٹ بزنس نہیں کرتی، جہاں گورنمنٹ بزنس کرے وہ تباہی کا موجب بنتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کاروبار کرنا پرائیویٹ سیکٹر کا کام ہے، ماضی میں بھی عملی فیصلے کئے گئے، بڑے بھائی نوازشریف نے پرائیویٹ سیکٹر کیلئے جو اقدامات کئے وہ تاریخ کا حصہ ہیں، آج ہمیں آگے بڑھنا ہے، گروتھ کی جانب بڑھنا ہے، ایکسپورٹس کر کے ڈالرز کمائیں یہ مشکلات کا حل ہے، کاروباری برادری کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جمشید دستی کا نااہلی کے بعد ردعمل آ گیا
نتیجہ اور مستقبل کی راہیں
شہباز شریف نے کہا کہ رسک کے بغیر دنیا میں کوئی چیز کامیاب نہیں ہوئی، میڈیم اور اسمال لیول کے انٹرپنیور کا ہاتھ پکڑنا پڑے گا، اس وقت کالے بادل بھی منڈلا رہے ہیں کہا جا رہا ہے آپ کی امپورٹس بڑھ رہی ہیں، امپورٹس بڑھیں گی تو ایکسپورٹس ہوں گی۔
وزیراعظم نے بتایا کہ تاجر، صنعتکار اور ایکسپورٹرز ہمارے سر کا تاج ہیں، معاشی ترقی کیلئے آپ کے مشوروں پر عمل کرنا میرا اور میری ٹیم کا فرض ہے، تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی کاروباری طبقے نے بھی مدد کرنی ہے، آج پاکستان کو سفارتی محاذ پر کامیابیاں مل رہی ہیں، گزشتہ سال ہندوستان کے ساتھ مڈبھیڑ ہوئی، ہندوستان کو ایسی شکست فاش ہوئی کہ اس کی آئندہ نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آج دوست ممالک پاکستانی پاسپورٹ کو اہمیت دیتے ہیں، فیلڈمارشل کے ساتھ مختلف ممالک کی دعوت پر دورے کر رہا ہوں، جو ہمارے ساتھ ہاتھ نہیں ملاتے تھے وہ آج کئی قدم آگے بڑھ کر بغل گیر ہوتے ہیں، جن ایکسپورٹرز نے اپنی اپنی فیلڈ میں ٹاپ کیا ان کو بلیو پاسپورٹ دیں گے، بلیو پاسپورٹ کی مدت 2 سال ہوگی۔
پی آئی اے کی نجکاری
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری انتہائی شفاف طریقے سے ہوئی، میری خاص ہدایات پر پی آئی اے کی نجکاری ٹیلی ویژن پر لائیو دکھائی گئی، عارف حبیب انتہائی لائق احترام سرمایہ کار ہیں، اللہ عارف حبیب کو کامیاب کرے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا میں پی آئی اے کو دوبارہ اسی طرح متعارف کرایا جائے گا، پی آئی اے کے ذریعے کروڑوں پاکستانیوں کا دنیا میں سفر لائق تحسین ہے، عارف حبیب گروپ کو پی آئی اے کے حوالے سے حکومت کی پوری سپورٹ حاصل ہوگی، عارف حبیب گروپ کو کہوں گا مسافروں کو ورلڈ کلاس سروس ملنی چاہیے.








