ایف بی آر تاتاری لشکر کی طرح ہے، جہاں جاتا ہے تباہی پھیر دیتا ہے، سینیٹر طلحہ محمود
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں ممبران نے ایف بی آر پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ حکام وزارت تجارت نے بتایا کہ وزارت تجارت نے بارٹر ٹریڈ کے لیے ایس آراو اکتوبر میں جاری کردیا، وی بوک کے لیے ماڈیول ابھی تک ایف بی آر نے تیار نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق کہتا ہے ہم صوبوں کا شیئر کاٹ رہے ہیں کیونکہ ہمارے خرچے زیادہ ہیں ، بتایاجائےوفاق کی ناکامیاں عوام اور صوبےکیوں بھریں؟مزمل اسلم
ایف بی آر کی نااہلی
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ یہ بہت بڑی نااہلی ہے، ایف بی آر سے پوچھا جائے۔ سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ ایف بی آر تاتاری لشکر کی طرح ہے، جہاں جاتا ہے تباہی پھیر دیتا ہے۔ ایف بی آر میں چنگیز خاں کو کلہاڑا دے کر بٹھایا گیا ہے، سنا ہے جب چیئرمین ایف بی آر کو بتایا جاتا ہے کہ فلاں شعبہ ٹیکس کے باعث مشکل میں ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ ایف بی آر کے قابل افسران باہر بیٹھے ہیں اور واپڈا سے ایک شخص کو ایف بی آر میں بٹھا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی ڈمپرز، بے ہنگم تعمیرات، 15 سال سے کے فور منصوبہ نامکمل ہے: خالد مقبول صدیقی
معاملات کے حل کے لئے اقدامات
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو طلب کرکے کہا جائے کہ معاملہ حل کریں۔ سینیٹر فیصل سلیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل چل رہی تھیں، ان کی برآمدات بھی اب گرگئی ہیں۔ ایف بی آر تو ہمارے لیے طالبان بن گیا ہے۔ اس پر سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ایف بی آر طالبان نہیں منگول لشکر ہے، اس سال ٹیکس ٹارگٹ بھی بہت زیادہ ہے اور ریٹ بھی بہت اونچا ہوگیا ہے۔
برآمدات میں کمی کے اسباب
سینیٹر طلحہ محمود کے سوال پر حکام وزارت تجارت نے بتایا کہ بہتر ٹیرف کے باوجود امریکا کو برآمدات نہ بڑھنے کی بڑی وجہ پاکستان میں زیادہ پیداواری لاگت ہے۔ چین و بھارت پر زیادہ ٹیرف سے مواقع تو ملے، مگر طویل المدتی سرمایہ کاری نہ ہونے اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث فائدہ نہ اٹھایا جا سکا۔ جولائی تا دسمبر امریکہ کو ٹیکسٹائل برآمدات میں صرف 4 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ اس کا زیادہ فائدہ ویتنام، بنگلا دیش اور کمبوڈیا نے لیا۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان جی ایس پی پلس کے تحت یورپی یونین کو تقریباً 7 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمد کرتا ہے جب کہ بھارت بغیر رعایت کے بھی اتنی ہی برآمدات کر رہا ہے۔ بھارت میں پالیسی ریٹ 5.5 فیصد جب کہ پاکستان میں 10.5 فیصد ہے۔








