سانحہ بھاٹی گیٹ کی شفاف تحقیقات کیلئے درخواست پر فریقین سے 3 مارچ کو جواب طلب

لاہور ہائیکورٹ میں اہم پیش رفت

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں بھاٹی گیٹ کے قریب ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعہ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان بننے سے پہلے چمن سے روزانہ خصوصی گاڑی “فروٹ ایکسپریس” کے نام سے چلا کرتی تھی، افغانستان سے آنیوالا پھل کلکتہ تک بھیجا جاتا تھا۔

عدالت کی جانب سے احکامات

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اطلاعات پنجاب کے خلاف مقدمہ درج کرنے، واقعے کی شفاف چھان بین اور غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس پر عدالت نے فریقین کو 3 مارچ تک جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف سے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح میں مجوزہ کمی پر اتفاق رائے کا امکان

کیس کی سماعت

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید شہباز رضوی نے کیس کی سماعت کی، دائر درخواست میں پنجاب حکومت، ایل ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، اب تک 550 پروازیں منسوخ ہوئیں، اعداد و شمار سامنے آگئے۔

درخواست گزار کا مؤقف

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انتہائی گنجان آباد علاقے میں مین ہول کو کھلا چھوڑنا سنگین غفلت ہے جبکہ حکومت نے اصل ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے صرف نمائشی اقدامات کیے۔

یہ بھی پڑھیں: این ڈی ایم اے کی 27 ویں امدادی کھیپ فلسطین روانہ

مین ہول کی چوری کا مسئلہ

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لاہور میں ہر سال 10 ہزار سے زائد مین ہول کے ڈھکن چوری ہو جاتے ہیں، اس کے باوجود مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے، پولیس کی جانب سے سیکشن 322 کے تحت مقدمہ درج کرنا ناکافی ہے کیونکہ ماں اور بیٹی کی ہلاکت محض حادثہ نہیں بلکہ واضح مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیاں خریدنے کے لیے بینکوں نے کتنا قرضہ جاری کیا؟ اعداد و شمار سامنے آگئے

پولیس اور حکومتی نمائندوں کی کارروائیاں

درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ واقعے کے بعد پولیس اور حکومتی نمائندوں نے متاثرہ خاندان کو ہراساں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: جو پیسے دے کر وزیر بنیں گے، کرپشن کیوں نہیں کریں گے؟ عظمیٰ بخاری نے کے پی کابینہ کے حوالے سے سوال اٹھا دیا

جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ

وکیل نے مطالبہ کیا کہ اصل حقائق سامنے لانے اور لواحقین کے لیے معاوضے کے تعین کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جبکہ غفلت کے مرتکب افسران سے 25 کروڑ روپے معاوضہ وصول کر کے متاثرہ خاندان کو دیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ غلط معلومات پھیلانے پر وزیر اطلاعات پنجاب، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: بلاک چین کے لیے اہم پیش رفت، پاکستان 21 بلین ڈالر کی کرپٹو مارکیٹ کو قانونی فریم ورک میں لانے کے لیے تیار

عدالت کے ریمارکس

سماعت کے دوران جسٹس سید شہباز رضوی نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ مفادِ عامہ سے متعلق ہے اور اس میں وفاقی حکومت کا جواب آنا بھی ضروری ہے۔

نوٹس جاری

عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 3 مارچ کو جواب طلب کر لیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...