سانحہ بھاٹی گیٹ کی شفاف تحقیقات کیلئے درخواست پر فریقین سے 3 مارچ کو جواب طلب

لاہور ہائیکورٹ میں اہم پیش رفت

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں بھاٹی گیٹ کے قریب ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعہ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں شادی والے گھر میں سلنڈر دھماکہ، جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے مالی امداد کا اعلان

عدالت کی جانب سے احکامات

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اطلاعات پنجاب کے خلاف مقدمہ درج کرنے، واقعے کی شفاف چھان بین اور غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس پر عدالت نے فریقین کو 3 مارچ تک جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا؟

کیس کی سماعت

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید شہباز رضوی نے کیس کی سماعت کی، دائر درخواست میں پنجاب حکومت، ایل ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا تازہ حملوں میں ایران کے 30 فوجی شہید کرنے کا دعویٰ

درخواست گزار کا مؤقف

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انتہائی گنجان آباد علاقے میں مین ہول کو کھلا چھوڑنا سنگین غفلت ہے جبکہ حکومت نے اصل ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے صرف نمائشی اقدامات کیے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی ڈائیلاگ کمیٹی کا بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چیف جسٹس پاکستان کو خط

مین ہول کی چوری کا مسئلہ

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لاہور میں ہر سال 10 ہزار سے زائد مین ہول کے ڈھکن چوری ہو جاتے ہیں، اس کے باوجود مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے، پولیس کی جانب سے سیکشن 322 کے تحت مقدمہ درج کرنا ناکافی ہے کیونکہ ماں اور بیٹی کی ہلاکت محض حادثہ نہیں بلکہ واضح مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 70،80سال میں وہ کام نہیں ہوئے،جو آج کیے جارہے ہیں،5 سال بعد بدلا ہوا جدید اورخوبصورت پنجاب نظر آئے گا: وزیر اعلیٰ مریم نواز

پولیس اور حکومتی نمائندوں کی کارروائیاں

درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ واقعے کے بعد پولیس اور حکومتی نمائندوں نے متاثرہ خاندان کو ہراساں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: معروف نعت خواں ریحان قریشی کی گاڑی چوری ہو گئی، دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور، ملزم آزاد

جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ

وکیل نے مطالبہ کیا کہ اصل حقائق سامنے لانے اور لواحقین کے لیے معاوضے کے تعین کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جبکہ غفلت کے مرتکب افسران سے 25 کروڑ روپے معاوضہ وصول کر کے متاثرہ خاندان کو دیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ غلط معلومات پھیلانے پر وزیر اطلاعات پنجاب، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: باپ نے خواجہ سراؤں سے دوستی پر نوجوان بیٹے کو بہیمانہ تشدد کرکے قتل کردیا

عدالت کے ریمارکس

سماعت کے دوران جسٹس سید شہباز رضوی نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ مفادِ عامہ سے متعلق ہے اور اس میں وفاقی حکومت کا جواب آنا بھی ضروری ہے۔

نوٹس جاری

عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 3 مارچ کو جواب طلب کر لیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...