ہائیکورٹس کا دائرہ اختیار محدود، جذبات کے بجائے قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے: وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ آئین میں ہائیکورٹس کا دائرہ اختیار محدود ہے، اسی کے مطابق جذبات کے بجائے قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں اعزازات کا حصول ہماری پیشہ ورانہ قابلیت و تکنیکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے: ایئر چیف

سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت ایک طالبعلم کو سپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں سپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس ہمدردی، مساوات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتوں سے عوام ہی نہیں،ججز بھی غیر مطمئن ہیں، آقا اور غلام کا نظام اب مزید چلنے والا نہیں:حافظ نعیم الرحمان

ہمدردی کا قانونی معیار نہیں

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہمدردی یا اخلاقیات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے۔ ججز انصاف سے فیصلے کریں، اور انہیں جذبات نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے۔ عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی بنیاد پر قانون کی جگہ کوئی اور معیار لاگو نہیں کر سکتیں۔

یہ بھی پڑھیں: آدمی طلاق کے بعد خوشی سے نہال ، پارٹی رکھ لی، بیوی کے مجسمے کے ساتھ تصاویر بنواتا رہا

عدالتی فیصلوں کی حیثیت

یہ بھی قرار دیا گیا کہ عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتے۔ عدالت کی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر عمل درآمد میں ہے۔ ججز کو بلا خوف و امتیاز قانون کے مطابق انصاف کرنا ہے کیوں کہ پاکستان افراد نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپیکر نے پنجاب اسمبلی کو ن لیگ کا ذیلی دفتر بنا دیا ہے: شفیع جان کا ملک احمد خان کے بیان پر ردعمل

آئینی حدود اور اختیارات

عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ہیں، اور پاکستان کا آئینی سفر ہمیشہ قانون کے دائرے میں طے ہوا ہے۔ ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار رکھتی ہیں، وہ صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں دیا گیا ہو۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی عدالتی فورم کو آئینی حدود سے تجاوز کا اختیار حاصل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان سے قبل ڈبل منافع خوری، آٹا 130 روپے کلو فروخت ہونے لگا

آرٹیکل 187 کی وضاحت

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ آرٹیکل 187 کے تحت ہمدردی کا اختیار اگر موجود ہے تو صرف سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دلکش لمحہ تھا، ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی، کچھ دو تین اجنبی چہرے بھی اِدھر اُدھر ملنے ملانے میں مصروف پائے گئے، میں ذرا کھلے ڈھلے موڈ میں تھا۔

طالبعلم کی درخواست کا پس منظر

یاد رہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ طبی وجوہات کی بنا پر وہ سپلیمنٹری امتحان بھی مس کر گئے۔ طالبعلم نے اس سلسلے میں وائس چانسلر کو 2 درخواستیں دی تھیں، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ میں ورچوئل اثاثہ جات ترمیمی بل منظور، بغیر لائسنس سروس دینے پر 5 سال قید اور 50 ملین جرمانہ ہوگا

سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ

بعد ازاں طالبعلم نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں انہیں سپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے احکامات قانون اور آئین کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

فیصلے کا تحریری حکم

وفاقی آئینی عدالت کا یہ اہم فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے 18 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے کی صورت میں جاری کیا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...