ہائیکورٹس کا دائرہ اختیار محدود، جذبات کے بجائے قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے: وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ آئین میں ہائیکورٹس کا دائرہ اختیار محدود ہے، اسی کے مطابق جذبات کے بجائے قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے عمرہ ویزا پالیسی میں اہم تبدیلی کردی
سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت ایک طالبعلم کو سپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں سپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس ہمدردی، مساوات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور؛ محکمہ جیل کا اہلکار شراب پی کر ڈیوٹی پر پہنچ گیا
ہمدردی کا قانونی معیار نہیں
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہمدردی یا اخلاقیات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے۔ ججز انصاف سے فیصلے کریں، اور انہیں جذبات نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے۔ عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی بنیاد پر قانون کی جگہ کوئی اور معیار لاگو نہیں کر سکتیں۔
یہ بھی پڑھیں: بشار الاسد کی بیوی: دشمنوں میں “موت کی دیوی” اور حامیوں میں “دمشق کا پھول” کے نام سے معروف
عدالتی فیصلوں کی حیثیت
یہ بھی قرار دیا گیا کہ عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتے۔ عدالت کی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر عمل درآمد میں ہے۔ ججز کو بلا خوف و امتیاز قانون کے مطابق انصاف کرنا ہے کیوں کہ پاکستان افراد نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شکارپور: انڈس ہائی وے پر مسلح ملزمان کی کار پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق
آئینی حدود اور اختیارات
عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ہیں، اور پاکستان کا آئینی سفر ہمیشہ قانون کے دائرے میں طے ہوا ہے۔ ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار رکھتی ہیں، وہ صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں دیا گیا ہو۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی عدالتی فورم کو آئینی حدود سے تجاوز کا اختیار حاصل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جوائنٹ تھراپی کیا ہے جو عامر خان اپنی بیٹی کے ساتھ کر رہے ہیں؟
آرٹیکل 187 کی وضاحت
وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ آرٹیکل 187 کے تحت ہمدردی کا اختیار اگر موجود ہے تو صرف سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن بنیان مرصوص ضروری تھا جو کامیاب ہوا: چیئرمین پی ٹی آئی
طالبعلم کی درخواست کا پس منظر
یاد رہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ طبی وجوہات کی بنا پر وہ سپلیمنٹری امتحان بھی مس کر گئے۔ طالبعلم نے اس سلسلے میں وائس چانسلر کو 2 درخواستیں دی تھیں، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی رانا ثناءاللہ کو سینٹر منتخب ہونے پر مبارکباد
سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ
بعد ازاں طالبعلم نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں انہیں سپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے احکامات قانون اور آئین کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔
فیصلے کا تحریری حکم
وفاقی آئینی عدالت کا یہ اہم فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے 18 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے کی صورت میں جاری کیا ہے۔








