امریکا اور روس کے درمیان آخری جوہری معاہدہ ختم ہو گیا
امریکا اور روس کا جوہری معاہدہ ختم
واشنگٹن/ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا اور روس کے درمیان آخری جوہری معاہدہ بھی ختم ہو گیا جس کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی بڑھنے کے امکانات ظاہر ہونے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور کویت کے ولی عہد کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ
نیو اسٹارٹ معاہدہ کی منسوخی
نجی ٹی وی چینل ایکسپرس نیوز کے مطابق امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو محدود کرنے والا آخری بڑا معاہدہ نیو اسٹارٹ بھی آج ختم ہوگیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک جوہری کنٹرول کا کوئی فعال معاہدہ باقی نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے یو اے ای کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا
معاہدے کی توسیع میں ناکامی
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیو اسٹارٹ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا اور روس کے درمیان نہ تو معاہدے میں توسیع پر اتفاق ہو سکا اور نہ ہی کسی متبادل فریم ورک پر پیش رفت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام ڈرامہ : بھارتی میڈیا نے 27 افراد کی لاشیں کیوں نہیں دکھائیں۔۔۔؟ دفاعی ماہرین نے سنجیدہ سوال اٹھا دیئے۔۔۔۔ حقائق پر مبنی ویڈیو بھی دیکھیں
روس کا عزم
اس معاملے پر روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ روس سفارتی ذرائع کے ذریعے اسٹریٹیجک استحکام برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں معاہدے کی شرائط اب لاگو نہیں رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: دریائے راوی میں پانی کی سطح بڑھنے لگی، انتطامیہ متحرک
روسی وزارتِ خارجہ کا بیان
رپورٹ کے مطابق معاہدے کے خاتمے سے ایک روز قبل روسی وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ اب دونوں فریق نیو اسٹارٹ کے تحت کسی بھی قسم کی ذمہ داری کے پابند نہیں رہے اور مستقبل کے اقدامات کا آزادانہ طور پر تعین کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک اور خوشخبری، ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے 80 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی
نیو اسٹارٹ معاہدے کا پس منظر
واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں طے پایا تھا، جس کے تحت امریکا اور روس جوہری وار ہیڈز، بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں اور لانچ سسٹمز کی تعداد محدود رکھنے کے پابند تھے۔
اقوامِ متحدہ کا اپیل
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے امریکا اور روس پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد نئے جوہری معاہدے پر دستخط کریں تاکہ عالمی سلامتی سے متعلق خدشات کو کم کیا جا سکے اور جوہری اسلحے کی دوڑ کو روکا جا سکے۔








