بچوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا، میاں بیوی کے جھگڑے کو ماں باپ کی لڑائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے، عدالت کے کیس میں اہم ریمارکس
اسلام آباد میں میاں بیوی کی لڑائی کا مقدمہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) میاں بیوی کی لڑائی اور بچوں کی حوالگی کے کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا؟
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں میاں بیوی کی لڑائی اور بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے خاتون شہری کی جانب سے بچوں کی حوالگی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔ میاں بیوی اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: میجر شبیر شریف شہید( نشان حیدر )کا 53واں یوم شہادت ، افواج پاکستان کا زبردست الفاظ میں خراج عقیدت
عدالت کی ہدایت
دوران سماعت عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تمام بچوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اریجیت سنگھ کے بعد ساحر علی بگا کا بھی جلد اپنے کیرئیر سے متعلق اہم فیصلہ لینے کا اعلان
جج کے ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بچوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن ان کو ماں باپ کی لڑائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی آرڈیننس لاکر صدر زرداری کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی، پلوشہ خان
خواتین کے حقوق
سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ گھر بیوی کے نام کرانا کوئی بڑی بات نہیں ، ان کی اپنی جائیداد بھی ان کی اہلیہ کے نام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جج اور وکیل میاں بیوی اور بچوں کے دشمن ہیں، میاں بیوی خود جو معاملہ حل کر سکتے ہیں وہ جج اور وکیل نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کوئی تحقیقی منصوبہ شامل نہ ہونے کے باعث عملی طور پر ’غیر فعال‘
بچوں کی صورتحال
عدالت کے استفسار پر وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ساڑھے 12 سے ساڑھے 4 سال کی عمر کے 4 بچے ہیں، جن میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔ ایک چھوٹا بیٹا خاتون کے پاس ہے جب کہ 3 بچے خاوند کے پاس ہیں۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا میاں بیوی میں علیحدگی ہو چکی ہے، جس پر دونوں نے عدالت میں بیان دیا کہ نہ علیحدگی ہوئی ہے اور نہ وہ علیحدگی چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قاضی فائز عیسیٰ اور مصدق ملک میں تلخ کلامی ہوئی ہے، صحافی ثاقب بشیر کا دعویٰ
ماضی کے مسائل
عدالت کے اس سوال پر کہ پھر مسئلہ کیا ہے کہ 4 سال سے الگ رہ رہے ہیں، خاوند نے بیان دیا کہ وہ نہ علیحدگی چاہتا ہے اور نہ دوسری شادی کی ہے، بیوی گھر اپنے نام کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یمن میں یو اے ای مفادات پر سعودی عرب نے فضائی حملے کیوں کیے؟
معاملات کا حل
جسٹس محسن اختر کیانی نے میاں بیوی کو ہدایت کی کہ وہ عرصہ سے عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں، اس لیے دونوں بیٹھ کر معاملہ حل کریں، ایک دوسرے کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں۔ اگر ایک کو غصہ آئے تو دوسرے کو خاموش رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر خاتون گھر میں سخت ہوتی ہے۔ عورت کا حوصلہ ہوتا ہے کہ وہ ماں باپ کو چھوڑ کر خاوند کے ساتھ رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو دورہ کرنے کے دوران روٹی شوٹی کھانے اور تفریح کرنے کی مکمل اجازت ہے، عظمیٰ بخاری
بچوں کی تربیت
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ اب بچوں کی تربیت کا وقت ہے، چند سالوں میں بچے بڑے ہو جائیں گے تو دونوں سے نفرت کریں گے۔ اس وقت اگر صلح بھی کریں گے تو وہ کام نہیں آئے گی۔ عدالتی استفسار پر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے معافی مانگنے پر تیار ہو گئے، جس پر عدالت نے دونوں کو کمرہ عدالت میں ساتھ بیٹھنے کی ہدایت کی۔
مقدمے کی آئندہ سماعت
عدالت نے میاں بیوی کو ہدایت دی کہ آئندہ سماعت پر چاروں بچوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت آئندہ جمعہ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔








