عمان میں مذاکرات کے بعد امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
نئی پابندیاں عائد
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔ یہ پابندیاں اس وقت عائد کی گئیں جب عمان میں دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور ختم ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں آج تاریخی کمی ریکارڈ
امریکی انتظامیہ کا مقصد
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن کو روکنا ہے، جسے واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ ایران دنیا بھر میں عدم استحکام پھیلانے اور اندرونِ ملک سخت جبر کے لیے استعمال کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونا 2300 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 5 لاکھ 28 ہزار 562 روپے ہو گئی
صدر ٹرمپ کی پالیسی
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے غیر قانونی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کو کم سے کم سطح پر لانے کے لیے اپنی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یہ تازہ پابندیاں اسی پالیسی کے تحت عائد کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ: شام کے مختلف علاقوں میں کن کی حکمرانی ہے؟
تحریری پابندیاں
امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ ایران کے تیل لے جانے والے 14 بحری جہازوں کے ساتھ ہر قسم کے لین دین پر پابندی عائد کی جا رہی ہے، جن میں ترکی، بھارت اور متحدہ عرب امارات کے جھنڈے تلے رجسٹرڈ جہاز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 15 اداروں اور دو افراد کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت ملک بھر میں مارکیٹس کے اوقات کم کرنے پر غور کر رہی ہے، وزیر پیٹرولیم
امریکہ کا مؤقف
اے ایف پی کے مطابق امریکہ پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دور سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ایران سے تیل نہ خریدے، اور اسی مقصد کے لیے مسلسل پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں “خدمات مولانا سمیع الحق شہیدکانفرنس” مولانا حامد الحق حقانی، سراج الحق اور دیگر کا خطاب
مذاکرات کا مثبت ماحول
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ نے جمعے کے روز عمان میں امریکی نمائندوں کے ساتھ اپنے ملک کے جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات کیے، اور ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا ماحول مثبت رہا۔
حکومتی سختی
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد کی سب سے بڑی احتجاجی تحریکوں میں سے بعض کو حکومتی سطح پر سختی سے کچلا گیا۔ اسی تناظر میں صدر ٹرمپ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں، اور امریکہ نے ایران کے ساحلوں کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔








