بشریٰ بی بی کی اہلخانہ سے ملاقات لیکن کس کی کاوشوں سے یہ ممکن ہوا؟ انصار عباسی اندرونی کہانی سامنے لے آئے

بشریٰ بی بی کی ملاقات کی اجازت

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تقریباً تین ماہ کے وقفے یعنی 4 نومبر 2025ء کے بعد پہلی مرتبہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت دی گئی، جن میں ان کی بیٹی اور بھابھیاں شامل تھیں۔ لیکن یہ کس کی کاوشوں سے ممکن ہوا، اس سلسلے میں سینئر تحقیقاتی صحافی انصار عباسی اندرونی کہانی سامنے لے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی بیورو کریسی میں مایوسی اور بے چینی۔۔؟ حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

ملاقات کی شرائط

جیو نیوز کے مطابق، چند روز قبل ہونے والی اس ملاقات کی اجازت اس واضح شرط کے ساتھ دی گئی تھی کہ اسے کسی بھی طرح کے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات بیرسٹر محمد علی سیف کی کوششوں سے ممکن بنائی گئی، جو عمران خان اور ان کی اہلیہ کیلئے انسانی ہمدردی اور قانونی سہولت کاری کے حوالے سے بیک چینل کوششوں میں شامل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات سے 2 ارب ڈالر رول اوور، کوئی مسئلہ نہیں، ستمبر 2027ء تک دوست ممالک کے ڈالر ڈپازٹس رول اوور ہوتے رہیں گے، گورنر اسٹیٹ بینک

نرمی کے اشارے

بتایا جاتا ہے کہ یہ سہولت کاری بشریٰ بی بی کی جانب سے دیے گئے ابتدائی اشاروں کے بعد عمل میں آئی، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ذریعے سے معاملات میں نرمی آ سکتی ہو تو اسے آزمایا جانا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق، عمران خان نے بھی بیرسٹر محمد علی سیف کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنی روابط کو استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی اور عسکری قیادت کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ الیکشن، تحریک انصاف ایک اور سینیٹر منتخب کراسکتی تھی، صحافی محمد عمیر

ملاقات کی گہرائی

ذرائع نے بتایا کہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی حالیہ اجازت سختی کے ساتھ اس شرط پر دی گئی تھی کہ ملاقات میں کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوگی۔ رشتہ داروں کو واضح طور پر کہا گیا تھا کہ وہ کوئی سیاسی پیغام پہنچائیں گے اور نہ وصول کریں گے، اور ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران اس شرط کو مکمل طور پر پورا کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کی سب سے معمر خاتون کا انتقال، عمر کتنا تھی؟

ذاتی نوعیت کی شکایت

اگرچہ ملاقات میں کسی سیاسی معاملے پر گفتگو نہیں ہوئی، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بشریٰ بی بی نے ذاتی نوعیت کی شکایت کا اظہار کیا اور افسوس ظاہر کیا کہ ان کی اور عمران خان کی مسلسل قید کے باوجود پاکستان تحریکِ انصاف ان کیلئے کوئی مؤثر کوشش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تاہم، ذرائع نے واضح کیا کہ یہ شکایت محض ذاتی احساس تک محدود رہی اور اس سے کوئی سیاسی پیغام یا ہدایت اخذ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بدین میں کار حادثہ، صوبائی وزیر اسماعیل راہو کی بہن حسنہ راہو سمیت 2 افراد جاں بحق

مستقبل کی ملاقاتوں کا امکان

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر طے شدہ شرائط کی اسی طرح پاسداری کی جاتی رہی تو حالات کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں بشریٰ بی بی کی اہل خانہ کے ساتھ اسی نوعیت کی محدود ملاقاتوں کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس، عمران خان کے معاملے میں فی الحال کسی ایسی نرمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے سستے مگر مہلک ’’شاہد ڈرون‘‘ کیا صلاحیت رکھتے ہیں اور کیسے وسیع تباہی کا سبب بن رہے ہیں ۔۔؟ اہم تفصیلات جانیے

ماضی کی ملاقاتیں

خاندان کے لوگوں کیساتھ ان کی آخری ملاقات، جس میں ان کی بہن شامل تھیں، پی ٹی آئی قیادت، بالخصوص بیرسٹر گوہر علی خان کی مسلسل کوششوں کے بعد ممکن ہو سکی تھی۔ تاہم یہ ملاقات اس وقت متنازع بن گئی جب عمران خان سے منسوب بعض بیانات بعد ازاں میڈیا تک پہنچائے گئے، جن میں چیف آف آرمی اسٹاف پر براہِ راست تنقید کی گئی تھی۔

حکام کی حساسیت

ذرائع کے مطابق، ان بیانات کو حکام نے ناقابلِ قبول قرار دیا، جس کے نتیجے میں پابندیاں دوبارہ سخت کر دی گئیں اور اس امر پر مزید زور دیا گیا کہ جیل میں اہل خانہ کے ساتھ ملاقاتوں کو کسی صورت سیاسی رابطے یا پیغام رسانی کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...