کراچی کی مصروف شاہراہ کے بل بورڈ پر نازیبا ویڈیو چلانے کی اصل کہانی کیا ہے ؟ گرفتار ملزم کا اعترافی ویڈیو بیان سامنے آگیا
کراچی میں ملزم کی گرفتاری
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پوش علاقے ڈیفنس کی مصروف شاہراہ کے بل بورڈز پر نازیبا ویڈیو چلانے والا ملزم گرفتار کرلیا گیا جس کا اعترافی ویڈیو بیان وائرل ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی سکینڈل،تحقیقات نہ کوئی انکوائری، وزیراعظم کو کس نے گمراہ کیا، صحافی زاہد گشکوری نے سوال اٹھادیا
ملزم کا اعتراف
ملزم نے اپنے ویڈیو بیان میں اعتراف کیا کہ وہ شاہراہ فیصل پر موجود مذکورہ اشتہاری کمپنی میں پینتیس ہزار ماہوار کی تنخواہ پر ملازم اور لیاقت آباد کا رہائشی ہے۔ ملزم کی عمر کے بارے میں افواہ پھیلائی گئی کہ وہ 17 سال کا ہے، لیکن ملزم کا کہنا ہے کہ اس کی عمر بیس سال ہے لیکن ابھی شناختی کارڈ نہیں بنا، والد کے شناختی کارڈ پر اسے ملازمت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کورونا سے 4 اموات کی خبروں پر محکمہ صحت سندھ کی وضاحت آ گئی
غلطی کا اعتراف
ملزم نے اعتراف کیا کہ کمپنی کی طرف سے چلائے جانے والے اشتہار موبائل میں موجود تھے اور موبائل میں ہی موجود نازیبا مواد غلطی سے اشتہارات کے ساتھ چل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: چین نے مچھر کے سائز کا ڈرون تیار کر لیا، اس کی خصوصیات جان کر دنیا حیران
نجی ٹی وی کے رپورٹر کا سوال
نجی ٹی وی کے رپورٹر نے ملزم سے سوال کیا کہ وہ فحش مواد کہاں سے آیا تو ملزم کا کہنا تھا کہ یہ مواد اس کے پاس واٹس ایپ گروپ سے آیا تھا۔ ملزم نے کہا کہ معاملے پر معافی بھی مانگی ہے۔ فوری طور پر اس لیے سامنے نہیں آیا تھا کیونکہ نوکری جانے کا ڈر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ملّا ہمارے معاشرے کے لیے ایک خطرہ ہیں۔
ویڈیو بیان
شہریوں کا ردعمل
یاد رہے کہ ڈیفنس میں نصب ڈیجیٹل اشتہاری اسکرینز پر چند لمحوں کےلیے نازیبا ویڈیو چلنے کے واقعے کے بعد شہریوں میں شدید غصے اور تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی، جس کے بعد پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔ ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا کے مطابق گرفتار ملزم نے ابتدائی تفتیش میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویڈیو اس کے موبائل فون سے حادثاتی طور پر نشر ہوگئی تھی۔








