پاکستان دشمنی کی پالیسی ناکام ہوگئی، ششی تھرور کا اعتراف
بھارتی سیاستدان ششی تھرور کی تنقید
نئی دہلی (آئی این پی) بھارتی سیاستدان اور رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور نے پاکستان کے خلاف مستقل دشمنی کی بھارتی پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکمتِ عملی ناکام ہو چکی ہے اور اس سے خطے میں امن کے امکانات کمزور ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں سال 2026 میں پہلا ریبیز کا کیس رپورٹ، متاثرہ بچی کو آوارہ کتے کے کاٹنے کے ڈیڑھ ماہ بعد علامات ظاہر ہوئیں
پالیسی کی ناکامی
انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں ششی تھرور نے لکھا کہ پاکستان کو مستقل دشمن بنا کر رکھنے کی پالیسی کو داخلی سیاست میں فائدے کے لئے استعمال کیا گیا، تاہم اس کا عملی طور پر کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں روشن مستقبل اور سہارا کارڈ کا اجرا، یتیموں، بیواؤں کو ماہانہ 5 ہزار روپے ملیں گے
بات چیت کی ضرورت
انہوں نے لکھا کہ پاکستان سے بات چیت کو شکست سمجھنا ایک غلط سوچ ہے اور مذاکرات کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ اپنے کالم میں انہوں نے بی جے پی کی سخت اور تصادمی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس رویے نے نہ صرف خطے کو غیر محفوظ بنایا بلکہ بھارت کے سفارتی مفادات کو بھی نقصان پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ کی گرفتاری سے متعلق محکمہ وائلد لائف کی بڑی نااہلی بھی سامنے آگئی
عالمی سطح پر پاکستان کی حیثیت
ششی تھرور کا کہنا تھا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی کوششیں بھی کامیاب ثابت نہیں ہوئیں اور یہ پالیسی خود فریبی کے مترادف ہے۔
بھارتی سیاسی منظر نامہ
سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں اب ایک سنجیدہ طبقہ ابھر رہا ہے جو پاکستان کے ساتھ مکالمے اور مذاکرات کا حامی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ششی تھرور کا موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی سیاست میں پاکستان مخالف بیانیے پر داخلی سطح پر سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔








