عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے: سپریم کورٹ میں پیش رپورٹ میں انکشاف
خلاصہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اڈیالا جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کی سہولیات کی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنے دل و ذہن میں یہ احساس و ادراک پیدا کر لیجیے کہ ماضی میں کسی قیمت پر بھی تبدیلی ممکن نہیں، ماضی گزر چکا، اب یہ واپس نہیں آئے گا
طبی معائنہ کا مطالبہ
جیونیوز کے مطابق رپورٹ میں عمران خان نے مطالبہ کیاکہ ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے معائنہ کرایا جائے۔ ان کا طبی معائنہ کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے کتابیں فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: 22 دن تک اپنے گھر میں حراست میں رہ کر 51 لاکھ روپے گنوانے والے شخص کی کہانی: ‘میں نوسربازوں کو باتھ روم جانے سے پہلے بھی بتاتا’
سکیورٹی اور نگرانی کا نظام
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اپنی سکیورٹی کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں ظاہر کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے زیرِ استعمال کمپاؤنڈ میں تقریباً 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، اگرچہ ایک کیمرے کی کوریج غسل خانے کے حصے تک ہے، لیکن کمرے کے اندر کوئی کیمرہ موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 15 سال کی تھی جب ٹرمپ نے زیادتی کی کوشش کی، نئی ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر پر خاتون سے زیادتی کا الزام
روزمرہ کا معمول
رپورٹ کے مطابق عمران خان تقریباً 9:45 پر ناشتہ کرتے ہیں، 11:30 بجے ایک گھنٹے تک قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور پھر جسمانی ورزش کرتے ہیں۔ دوپہر 1:15 پر غسل کے بعد انہیں چہل قدمی کے شیڈ تک رسائی دی جاتی ہے۔ دوپہر کا کھانا تقریباً 3:30 سے 4:00 بجے کے درمیان ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرکٹر حیدر علی برطانیہ میں الزامات سے باعزت بری، پاسپورٹ واپس مل گیا
خوراک اور صحت
درخواست گزار نے بیان کیا کہ صبح ناشتے میں ایک کپ کافی، دلیہ، اور چند کھجوریں شامل ہوتی ہیں۔ دوپہر کا کھانا ہفتہ وار منصوبہ بندی کے تحت منتخب کیا جاتا ہے، جس کے اخراجات عمران خان کا خاندان برداشت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گرفتار پارٹی رہنماؤں سے متعلق پتہ ہی نہیں لگ رہا ، فیصل چوہدری
علاج اور طبی حالت
عمران خان نے مزید بتایا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔ انہوں نے پمز کے ڈاکٹرز کو بار بار شکایت کی، لیکن کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ بعدازاں، ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا بن گیا، جس نے مزید نقصان پہنچایا۔
خلاصہ
رپورٹ کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی کا علاج کیا گیا، لیکن اس کے باوجود وہ صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی۔








