بنگلہ دیش عام انتخابات، بی این پی اتحاد نے 211 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی
بنگلادیش انتخابات کے غیر حتمی نتائج
ڈھاکہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بنگلادیش الیکشن میں غیرحتمی غیر سرکاری نتائج کا سلسلہ جاری ہے۔ بی این پی اتحاد نے 211 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، فارم ہاؤس پر چھاپہ، 20 سے زائد شیر برآمد، 4 افراد گرفتار
بی این پی کے کامیاب امیدوار
بی این پی چیئرمین طارق رحمان اپنی دونوں سیٹیں جیت گئے، اپنے بیان میں کہا انتخابات میں اکثریت حاصل کرلی۔ اگلی حکومت بنانے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے اسٹار کرکٹر پر 12 لاکھ روپے جرمانہ عائد
دیگر جماعتوں کی پوزیشن
جماعت اسلامی کا 11 جماعتی اتحاد 70 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ طلبا تحریک کی جماعت این سی پی نے تین سیٹیں حاصل کیں۔ 3 آزاد امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کرلی۔ بنگلادیش جاتیہ پارٹی اور اسلامی اندولن بنگلادیش نے ایک ایک سیٹ حاصل کرلی۔ الیکشن کمیشن آف بنگلا دیش آج حتمی نتائج کا اعلان کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے کارکنوں نے علی امین گنڈا پور کو کہیں بھی جانے سے روک دیا
قومی ریفرنڈم
بنگلادیش میں عام انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی ہوا۔ 72.9 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ دیدیا جبکہ 27.1 فیصد ووٹرز نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف حصوں میں آج موسم کیسا رہے گا؟
ریفرنڈم کی تفصیلات
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے بیلٹ پیپر پر عوام سے ایک سوال پوچھا گیا جس کے جواب میں ہاں یا ناں کا انتخاب کرنا تھا۔ اس کے ذریعے چار بڑی آئینی ترامیم سمیت تقریباً 30 اصلاحات پر عوامی رائے لی گئی۔ مجوزہ تبدیلیوں میں نئے آئینی اداروں کا قیام، پارلیمنٹ کو دو ایوانوں پر مشتمل بنانا اور ایوانِ بالا کی منظوری کے بغیر آئینی ترمیم نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹری سریز، پاکستان اور افغانستان کے درمیان میچ کا ٹاس ہو گیا
انتخابی عمل کا آغاز
واضح رہے کہ گزشتہ روز ووٹنگ کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے سے ہوا جو کہ ساڑھے تین بجے تک جاری رہی۔ اس دوران 300 میں سے 299 نشستوں پر 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ ایک حلقے میں امیدوار کی موت کے باعث الیکشن ملتوی کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن تقرریوں کا معاملہ، سپیکر نے کمیٹی بنانے سے انکار کر دیا
امن وامان کی صورتحال
بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق چند ایک ناخوشگوار واقعات پیش آئے۔ تاہم مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن رہا۔ انتخابی عملے کے تین ارکان کو مبینہ دھاندلی کے الزامات پر ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا، گوپال گنج میں پیٹرول حملے میں تین افراد زخمی ہوئے۔ بنگلادیشی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق دن دو بجے تک ٹرن آوٹ 47.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
آنے والے نتائج
حتمی ٹرن آوٹ اس سے کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔ بنگلا دیش بھر میں 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔ بنگلا دیشی ووٹرز نے عام انتخابات کے ساتھ ہی جولائی نیشنل چارٹر کی توثیق کیلئے ریفرنڈم میں بھی حصہ لیا۔ انتخابی نتائج کے ساتھ ریفرنڈم پر عوام کی رائے بھی سامنے آئے گی。








