آئی ایم ایف جائزہ مشن تیسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات کے لیے 25 فروری کو پاکستان کا دورہ کرے گا
آئی ایم ایف کا دورہ پاکستان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات کے لئے عالمی مالیاتی ادارے کا جائزہ مشن 25 فروری کو پاکستان کا دورہ کرے گا اور تقریباً دو ہفتے قیام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی پولیس کا ریلوے اسٹیشنز اور سرکاری عمارتوں کی ویڈیوز بنا کر پاکستان میں ہینڈلرز کو بھیجنے کے الزام میں 3 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ
معاشی کارکردگی کا جائزہ
نجی ٹی وی چینل سماء نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران معاشی کارکردگی اور مقررہ اہداف میں پیشرفت کا جائزہ لے گا۔ مشن کو ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے، مانیٹری پالیسی اور زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارتی پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے میڈیا کو ایل او سی کا دورہ کرانے کا فیصلہ کرلیا
بجٹ سرپلس اور ٹیکس کی صورتحال
پرائمری بجٹ سرپلس، صوبائی کیش سرپلس اورصوبائی ٹیکس ہدف پورا کرلیا گیا، جبکہ جولائی تا دسمبر 2025 ٹیکس ہدف پورا نہ ہوسکا، جس میں 329 ارب روپے کا شارٹ فال رہا۔ ایف بی آر نے 6 ماہ کے دوران 6 ہزار 161 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، اور پاکستان کو 2027 تک مختلف ششماہی جائزوں میں مزید 3.7 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی باکسر عثمان وزیر کا اگلی فائٹ کا اعلان
معلومات کی فراہمی
تاجردوست اسکیم اور ری ٹیلرز سے ٹیکس وصولی بھی ہدف سے کم رہی، صوبوں نے 6 ماہ کے دوران 1 ہزار 179 ارب روپے کیش سرپلس دیا۔ صوبائی حکومتوں نے جولائی تا دسمبر 568 ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع کیا۔
نجکاری پروگرام میں پیش رفت
آئی ایم ایف کو پی آئی اے سمیت نجکاری پروگرام میں پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ مذاکرات کی کامیابی پر ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر ملیں گے۔ ای ایف ایف پروگرام کے ایک ارب اور کلائمیٹ فنانسنگ کے 20 کروڑ ڈالر کی قسط ملے گی، دونوں پروگرامز کے تحت پاکستان کو اب تک 3.3 ارب ڈالر مل چکے ہیں۔








