نگہبان رمضان کارڈ پر کوئی فیس یا PIN کوڈ نہیں، مکمل شفافیت کے ساتھ امداد دی جا رہی ہے: عظمیٰ بخاری
وزیر اطلاعات کا رمضان پیکج کا اعلان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے نگہبان رمضان پیکج کے تحت 42 لاکھ خاندانوں کو براہ راست مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس پیکج کے تحت ہر خاندان کو 10 ہزار روپے کی رقم دی جا رہی ہے اور کارڈ کے استعمال کے لیے نہ کسی قسم کا پن کوڈ درکار ہے اور نہ ہی کوئی چارجز ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور : قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کے لیے 15 لاکھ ماحول دوست بیگ تیار
مدد کے لئے ہیلپ لائن
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حق دار افراد جو کسی وجہ سے سروے میں رہ گئے ہوں یا ان تک امداد نہیں پہنچی، وہ ’’مریم کو بتائیں‘‘ ہیلپ لائن کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔ صرف اپنا شناختی کارڈ نمبر فراہم کر کے اہل خاندان کی اہلیت کا فوری تعین کیا جائے گا اور 24 گھنٹوں کے اندر مسئلہ حل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نگہبان رمضان کارڈ کے ذریعے رقم براہِ راست اے ٹی ایم یا بینک سینٹرز سے وصول کی جا سکتی ہیں اور کسی بھی غیر قانونی مطالبے یا چارج کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں اب تک تین مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھر آ کر فون کر کے صورتحال بتائی اور پوچھا”بتا یار کیا کروں؟“ اس نے وزیر کا نام پوچھا۔ میں نے بتایا توبولا”چپ کر کے جوائن کر لے،اچھا آدمی ہے“۔
کارڈز کی ترسیل اور عوامی پیغام
وزیر اطلاعات نے یقین دلایا کہ 10 مارچ تک پوری پنجاب میں کارڈز کی ترسیل مکمل کر دی جائے گی۔ عظمیٰ بخاری نے چیف منسٹر مریم نواز کا پیغام بھی عوام تک پہنچایا کہ امداد ہر خاندان تک عزت نفس کے ساتھ پہنچائی جائے گی۔ کسی بھی جگہ بھیڑ بھاڑ یا غیر ضروری اجتماع کے ذریعے رقم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہر حق دار کو بلا رکاوٹ اس کا حق پہنچایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کی گرفتاری سے رہائی تک 100 روز خاموشی کے بعد بڑا اعلان
مفت افطاری کے انتظامات
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی جی پی آر میں معاون خصوصی سلمیٰ بٹ کے ہمرا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رمضان کے دوران ہر تحصیل میں مفت افطاری کے دسترخوان منظم کیے گئے ہیں، جہاں تقریباً روزانہ ہر تحصیل میں 2 ہزار افراد مستفید ہوں گے۔ مخیر حضرات نے بھی بھرپور حصہ لیا ہے اور چیف منسٹر نے ان کی شراکت کو سراہا ہے۔ رمضان کے بعد ایسے تمام افراد کو جو عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوئے، سرٹیفیکیٹ اور اعزازات دیئے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
حفاظتی تدابیر اور عوامی اپیل
وزیر اطلاعات نے عوام سے اپیل کی کہ کارڈ کے حصول اور ہیلپ لائن کے استعمال میں کوئی ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے اور ذخیرہ اندوزی یا قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہ دی جائے۔ ہر حق دار کو اس ماہ رمضان میں اپنے 10 ہزار روپے کا حق بلا رکاوٹ پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت اس ضمن میں قوانین پر مکمل عمل درآمد کروا رہی ہے تاکہ حق داروں تک امداد محفوظ اور شفاف طریقے سے پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکار حمزہ علی عباسی کی بہن ڈاکٹر فضیلہ عباسی پر منی لانڈرنگ کے الزامات، ایف آئی اے نے دو مقدمات درج کر لیے۔
پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال
وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والے اب این آر او لینے کے لیے مختلف حیلے بہانے کر رہے ہیں۔ جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں سیاسی مخالفین کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا، آج وہ خود ریلیف کے متلاشی ہیں۔ جیل سے جب بھی کوئی پیغام آتا ہے تو وہ فساد، فتنہ اور ریاست سے ٹکراؤ کا ہی آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کارکن پارٹی کے ماتھے کا جھومر ہیں، سختیاں جھکا سکیں نہ معاشی مجبوریاں :احسن اقبال
علی مقدمات اور صحت کی صورتحال
وزیر اطلاعات نے کہا کہ 73 سال کی عمر میں 6/6 اور 6/9 نظر چند لوگوں کی ہوتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے، دن میں 2 مرتبہ طبی معائنہ ہوتا ہے، اچھی خوراک، واک اور جم کی سہولت میسر ہے۔ ان کی صحت کے حوالے سے نہ کبھی غفلت برتی گئی اور نہ برتی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاسداران انقلاب ہوں، مسلمانان عرب ہوں یا پھر ترکی، پاکستان، روس اور چین ہوں، سب کو وقت کے یزید کا ہاتھ روکنے کے لیے آگے بڑھ کر عملی کردار ادا کرنا ہوگا، جاویدلطیف
عوامی مسائل اور حکومتی کارکردگی
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں پولیس اہلکار شہید ہو رہے ہیں مگر ان مسائل پر کوئی توجہ نہیں۔ اس کے بجائے ’’رہائی فورس‘‘ بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ کیا یہ ریاست پر حملہ کرنے کی تیاری ہے؟
نظام عدل اور انسانی حقوق
اگر واقعی کوئی قانونی راستہ بنتا ہے تو حکومت قانون کے مطابق سہولت دینے سے گریز نہیں کرے گی، لیکن انتشار، انارکی اور ریاست کے خلاف بیانیہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا مؤقف بالکل صاف ہے: جو کچھ اس شخص نے اپنے مخالفین کے ساتھ کیا، اس جیسا سلوک اس کے ساتھ نہیں کیا جائے گا۔








