سوئی گیس کمپنیوں میں گیس چوری اور لیکج سے قومی خزانے کو سالانہ 60 ارب روپے کا نقصان ہونے کا انکشاف
سوئی گیس کمپنیوں کی گیس چوری اور لیکج کا انکشاف
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں سوئی گیس کمپنیوں میں گیس چوری اور لیکج سے قومی خزانے کو سالانہ 60 ارب روپے کا نقصان ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی نژاد پاکستانی خاتون کا بچوں کی حوالگی کیلئے عدالت سے رجوع
اجلاس کی تفصیلات
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت ہوا، جس میں رکن کمیٹی گل اصغر خان نے دونوں گیس کمپنیوں (ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی) کی نجکاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار کرنا سرکار کا کام نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے افغان فورسز کی جارحیت ناکام بنا دی،پاک فوج کی موثر کارروائی
نقصانات کا بوجھ عوام پر
گل اصغر خان نے کہا کہ دونوں گیس کمپنیوں کے سالانہ 60 ارب روپے کے نقصانات کوئی چھوٹی بات نہیں، یہ بوجھ عوام برداشت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کپتان بن کر پہلی ہی سریز جیتنے کے بعد شاہین آفریدی کا بیان
سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کی کارکردگی
ایم ڈی سوئی ناردرن عامر طفیل نے بتایا کہ سوئی ناردرن کے گیس نقصانات لیکج اور چوری 5.27 فیصد ہیں جو اوگرا کے اہداف سے بھی کم ہیں اور موجودہ گیس نقصانات کا گیس تخمینہ 30 ارب روپے سالانہ ہے۔
سوئی سدرن کے ایم ڈی امین راجپوت کے مطابق ان کی کمپنی کے سالانہ نقصانات بھی 30 ارب روپے ہیں جنہیں 17 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد تک لایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی ہیڈ کوچ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر ہونے کا سارا ملبہ کھلاڑیوں پر ڈال دیا
گردشی قرض کا مسئلہ
رکن کمیٹی سید نوید قمر نے گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرض پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرض بڑھ رہا ہے، اس طرح تو گیس کمپنیاں تباہ ہو جائیں گی۔ ڈی جی گیس نے بتایا کہ گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرض 3283 ارب روپے ہے، جس میں 1452 ارب لیٹ پیمنٹ سرچارجز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس،’’ای بزنس پروگرام‘‘ کا شاندار آغاز، 2 ہفتے کی ٹائم لائن مقرر
لیتھیم کے ذخائر کی نشاندہی
ڈی جی گیس نے مزید کہا کہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان اور کوٹلی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں لیتھیم کے ذخائر کی نشاندہی ہوئی ہے۔
ترقیاتی بجٹ کی تجویز
مزید براں اجلاس میں آئندہ مالی سال کیلئے پیٹرولیم ڈویژن کے اداروں کیلئے 4 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز پیش کی گئی ہے۔








