میری نظر 6/6 نہیں، نظر 6/6 بھی ہوتی تب بھی دور سے پڑھنا ممکن نہیں، جسٹس عامر فاروق
جوڈیشل الاؤنس کیس کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت میں جوڈیشل الاؤنس کیس میں 6/6 بینائی کا تذکرہ چھڑ گیا۔ جسٹس عامر فاروق نے فرمایا کہ میری نظر 6/6 نہیں ہے، اگر نظر 6/6 بھی ہوتی تب بھی دور سے پڑھنا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں جاری صہیونی سفاکیت، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسلامی ممالک کے سربراہان کو خط بھیج دیا
جسٹس عامر فاروق کا بیان
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، جسٹس عامر فاروق نے کہا، "وکیل صاحب! آپ دور سے فائل دکھا رہے ہیں، وکلا دوربین یا ٹیلی سکوپ کے ذریعے دور سے پڑھ سکتے ہوں گے۔"
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے پی سی بی کا مطالبہ مسترد کرنے کا فیصلہ کرلیا، کرکٹ ویب سائٹ کا دعویٰ
مقدمات کی کیٹیگریز
جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا کہ جوڈیشل الاؤنس کیسز کی کئی کیٹیگریز ہیں۔ ایک سماعت میں اتنے طویل مقدمے کا فیصلہ ممکن نہیں، ہر کیٹگری کے مقدمات الگ الگ سنے جائیں گے۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی، جس کے بعد مقدمے کی سماعت 4 اپریل تک ملتوی کی گئی۔








