جیسا خیال کیا جا رہا تھا، کمشنر ایک ایک اپیل بڑے غور سے سنتے، اپیل کنندہ کو پورا موقع دیتے پھر اعتراضات پر متعلقہ ڈی سی او اپنا مؤقف بیان کرتا
مصنف کی جانب سے
شہزاد احمد حمید
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان سے لڑائی کے باوجود ویویک اوبرائے نے کتنی دولت کمائی؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے
قسط: 450
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے سال 2026 میں سالانہ پبلک اور آپشنل چھٹیوں کا کیلنڈر جاری کردیا
الیکشن اپیلوں کی سماعت
جیسا خیال کیا جا رہا تھا، کمشنر ایک ایک اپیل بڑے غور سے سنتے۔ اپیل کنندہ کے وکیل کو پورا موقع دیتے کہ اپنا مؤقف بیان کرے اور پھر اس کے اعتراضات پر متعلقہ ڈی سی او اپنا مؤقف بیان کرتا۔ دوران سماعت اگر رولز سے معمولی سی بھی deviation ہوتی تو متعلقہ سرکاری افسر کی شامت آجاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: نگران دور میں تعینات ملازمین کی برطرفی کے کیس میں خیبرپختونخوا حکومت کو نوٹس جاری
کمشنر کی سرزنش
کمشنر نے ایک موقع پر اے سی صدر گوجرانوالہ اکرم بھنڈر کی سخت سرزنش کی تھی۔ ڈی سی او گوجرانوالہ نے یہ کہہ کر اس کی جان بچائی کہ ایسا کرنے کی ہدایت اس نے دی تھی۔ یہ ڈی سی او کا بڑا پن تھا۔ کم کم ہی افسر ایسے مواقع پر بات اپنے سر لیتے تھے۔ خالد سلطان بھی ایسے ہی ایک اور افسر تھے۔ وہ خود اپنے ماتحت کو جو چاہے کہہ لیں، مگر کوئی اور اس کی بے عزتی کرے، سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مصالحت کا کلچر دنیا بھر میں ہے مگر ہمارے ہاں اس میں ٹائم لگے گا: جسٹس محسن اختر کیانی
اختر نواز کا کردار
میرا دوست اور کولیگ اختر نواز بحیثیت اے ڈی ایل لاہور ایسی کئی باتوں کا چشم دید تھا۔ وہ بہت عرصہ خالد سلطان کے ساتھ اے ڈی ایل جی لاہور رہا تھا۔ اختر نواز سلجھا ہوا، قابل، سمجھ دار اور یار دوست انسان تھا۔ وہ ہمیشہ دوستوں کا خیال کرتا۔ ساتھیوں میں اس کی حیثیت لیڈر کی سی تھی۔ اس سے آج بھی رابطہ کل جیسا ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے خلاف میچ میں سری لنکن کھلاڑی نے ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کر لیا
درخواست کی صورتحال
سب سے کم اپیل اے سی کاموں کی ڈاکٹر افشاں رباب کی تھیں۔ یہ سی ایس پی اور سندھ کی رہائشی خوبصورت خاتون تھیں۔ دوران سماعت کمشنر کا نزلہ اے سی کھاریاں اقبال مظہر حسین پر گرا۔ اس نے حلقہ بندی کرتے کسی خاص سیاسی گروہ کو سپورٹ کرنے کی کوشش کی اور بھری عدالت میں اپنی بہت بے عزتی کروائی۔
یہ بھی پڑھیں: برادر ملکوں کی طرح اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے، محسن نقوی کی افغان نائب وزیر داخلہ سے گفتگو
وقفہ اور دوبارہ سماعت
میں نے کمشنر سے سماعت تھوڑی دیر کے لئے ملتوی کرنے کی درخواست کی جو انہوں نے منظور کر لی۔ ٹی ایم او کھاریاں شفقت منیر سے پوچھا کہ معاملہ کیا تھا؟ اس نے بتایا کہ "سر! لالچ کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔" میں نے وقفے کے دوران سچ کمشنر کو بتا دیا۔ سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وہ سخت نالاں تھے، غیر قانونی بات انہیں برداشت نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عہدہ ملا تو بھارت اور پاکستان میں امریکی مفادات کیلئے کام کرونگا: انڈین امریکن پال کپور
حلقہ بندی کا فیصلہ
کمشنر نے اے سی کھاریاں کی خوب درگت بنائی اور اسے میرے کمرے میں جا کر حلقہ بندی قانون کے مطابق دوبارہ کرنے کا حکم دیا۔ مجھے کہنے لگے؛ "اس کے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن ابھی بھجواؤ۔" انہوں نے ڈی سی او گجرات کی بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ درست طور پر نگرانی نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیان پر ردعمل آ گیا
مظہر کا موقع
خیر، یہ سب میرے دفتر چلے آئے اور حلقہ بندی نئے سرے سے کی گئی۔ مظہر اقبال کا تو برا حال تھا۔ وہ منت سماجت کرتا رہا کہ "اسے صرف میں ہی بچا سکتا ہوں۔" جب اسے میرے اور شفقت کے تعلق کا پتہ چلا تو اس نے شفقت سے میری سفارش کروا ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں: مراد سعید نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا
کمشنر کی حکم
دوبارہ کمشنر کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے مجھے کہا؛ "شہزاد! حلقہ بندی چیک کر لی ہے۔" میں نے جواب دیا؛ "جی سر۔" میری سفارش پر مظہر کو معاف تو کر دیا گیا لیکن کھاریاں سے تبادلہ کروا دیا گیا۔
اختتام
ان کی جگہ افشاں رباب کی ٹرانسفر ہو گئی۔ مظہر پھر ڈی سی ڈی جی خاں بھی رہا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ تھا تو میری ان سے ملاقات روز ہوتی تھی۔ ہم دونوں اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔








