جیسا خیال کیا جا رہا تھا، کمشنر ایک ایک اپیل بڑے غور سے سنتے، اپیل کنندہ کو پورا موقع دیتے پھر اعتراضات پر متعلقہ ڈی سی او اپنا مؤقف بیان کرتا

مصنف کی جانب سے

شہزاد احمد حمید

یہ بھی پڑھیں: شکیب الحسن نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں نئی تاریخ رقم کردی

قسط: 450

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما شرمندہ یا خوفزدہ؟عمران خان سے ملاقات کیلئے بھی کوئی نہ آیا

الیکشن اپیلوں کی سماعت

جیسا خیال کیا جا رہا تھا، کمشنر ایک ایک اپیل بڑے غور سے سنتے۔ اپیل کنندہ کے وکیل کو پورا موقع دیتے کہ اپنا مؤقف بیان کرے اور پھر اس کے اعتراضات پر متعلقہ ڈی سی او اپنا مؤقف بیان کرتا۔ دوران سماعت اگر رولز سے معمولی سی بھی deviation ہوتی تو متعلقہ سرکاری افسر کی شامت آجاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکہ کی 15 نکاتی جنگ بندی تجویز کا جواب بھیج دیا

کمشنر کی سرزنش

کمشنر نے ایک موقع پر اے سی صدر گوجرانوالہ اکرم بھنڈر کی سخت سرزنش کی تھی۔ ڈی سی او گوجرانوالہ نے یہ کہہ کر اس کی جان بچائی کہ ایسا کرنے کی ہدایت اس نے دی تھی۔ یہ ڈی سی او کا بڑا پن تھا۔ کم کم ہی افسر ایسے مواقع پر بات اپنے سر لیتے تھے۔ خالد سلطان بھی ایسے ہی ایک اور افسر تھے۔ وہ خود اپنے ماتحت کو جو چاہے کہہ لیں، مگر کوئی اور اس کی بے عزتی کرے، سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس نے علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرلیے

اختر نواز کا کردار

میرا دوست اور کولیگ اختر نواز بحیثیت اے ڈی ایل لاہور ایسی کئی باتوں کا چشم دید تھا۔ وہ بہت عرصہ خالد سلطان کے ساتھ اے ڈی ایل جی لاہور رہا تھا۔ اختر نواز سلجھا ہوا، قابل، سمجھ دار اور یار دوست انسان تھا۔ وہ ہمیشہ دوستوں کا خیال کرتا۔ ساتھیوں میں اس کی حیثیت لیڈر کی سی تھی۔ اس سے آج بھی رابطہ کل جیسا ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہدرہ میں گائے کا گوشت 1200 روپے کلو سرعام فروخت، شہریوں کا انتظامیہ سے فوری نوٹس کا مطالبہ

درخواست کی صورتحال

سب سے کم اپیل اے سی کاموں کی ڈاکٹر افشاں رباب کی تھیں۔ یہ سی ایس پی اور سندھ کی رہائشی خوبصورت خاتون تھیں۔ دوران سماعت کمشنر کا نزلہ اے سی کھاریاں اقبال مظہر حسین پر گرا۔ اس نے حلقہ بندی کرتے کسی خاص سیاسی گروہ کو سپورٹ کرنے کی کوشش کی اور بھری عدالت میں اپنی بہت بے عزتی کروائی۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس کی آبنائے ہرمز کھلوانے یا جنگ میں مدد کیلئے بحری بیڑہ بھیجنے کی تردید

وقفہ اور دوبارہ سماعت

میں نے کمشنر سے سماعت تھوڑی دیر کے لئے ملتوی کرنے کی درخواست کی جو انہوں نے منظور کر لی۔ ٹی ایم او کھاریاں شفقت منیر سے پوچھا کہ معاملہ کیا تھا؟ اس نے بتایا کہ "سر! لالچ کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔" میں نے وقفے کے دوران سچ کمشنر کو بتا دیا۔ سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وہ سخت نالاں تھے، غیر قانونی بات انہیں برداشت نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے لوگوں کو لا کر بسانے کا فیصلہ فاش غلطی تھی: وزیراعظم

حلقہ بندی کا فیصلہ

کمشنر نے اے سی کھاریاں کی خوب درگت بنائی اور اسے میرے کمرے میں جا کر حلقہ بندی قانون کے مطابق دوبارہ کرنے کا حکم دیا۔ مجھے کہنے لگے؛ "اس کے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن ابھی بھجواؤ۔" انہوں نے ڈی سی او گجرات کی بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ درست طور پر نگرانی نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فنکاروں نے مشرقی موسیقی کو بین الاقوامی شناخت دی: مریم نواز

مظہر کا موقع

خیر، یہ سب میرے دفتر چلے آئے اور حلقہ بندی نئے سرے سے کی گئی۔ مظہر اقبال کا تو برا حال تھا۔ وہ منت سماجت کرتا رہا کہ "اسے صرف میں ہی بچا سکتا ہوں۔" جب اسے میرے اور شفقت کے تعلق کا پتہ چلا تو اس نے شفقت سے میری سفارش کروا ڈالی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں موسمی انفلوئنزا H3N2 پھیلنے لگا، این آئی ایچ نے بچاؤ اور کنٹرول کے لیے ایڈوائزری جاری کردی۔

کمشنر کی حکم

دوبارہ کمشنر کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے مجھے کہا؛ "شہزاد! حلقہ بندی چیک کر لی ہے۔" میں نے جواب دیا؛ "جی سر۔" میری سفارش پر مظہر کو معاف تو کر دیا گیا لیکن کھاریاں سے تبادلہ کروا دیا گیا۔

اختتام

ان کی جگہ افشاں رباب کی ٹرانسفر ہو گئی۔ مظہر پھر ڈی سی ڈی جی خاں بھی رہا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ تھا تو میری ان سے ملاقات روز ہوتی تھی۔ ہم دونوں اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...