جیسا خیال کیا جا رہا تھا، کمشنر ایک ایک اپیل بڑے غور سے سنتے، اپیل کنندہ کو پورا موقع دیتے پھر اعتراضات پر متعلقہ ڈی سی او اپنا مؤقف بیان کرتا
مصنف کی جانب سے
شہزاد احمد حمید
یہ بھی پڑھیں: صحافت کے 50 برس۔۔۔ سعید آسی کے اعزاز میں شام ’گولڈن جوبلی تقریب‘ بن گئی
قسط: 450
یہ بھی پڑھیں: ملزم لوکل ٹرانسپورٹ سے فیصل آباد پہنچا، 2 بار فارچونر بھی لایا لیکن اس کا کرایہ ابھی تک نہیں دیا، ثنا یوسف قتل کیس میں تہلکہ خیز دعویٰ
الیکشن اپیلوں کی سماعت
جیسا خیال کیا جا رہا تھا، کمشنر ایک ایک اپیل بڑے غور سے سنتے۔ اپیل کنندہ کے وکیل کو پورا موقع دیتے کہ اپنا مؤقف بیان کرے اور پھر اس کے اعتراضات پر متعلقہ ڈی سی او اپنا مؤقف بیان کرتا۔ دوران سماعت اگر رولز سے معمولی سی بھی deviation ہوتی تو متعلقہ سرکاری افسر کی شامت آجاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: جب ندا یاسر امتحان میں نقل کرتی پکڑی گئی تھیں؛ مارننگ شو میں خود ہی پوری کہانی سنا دی
کمشنر کی سرزنش
کمشنر نے ایک موقع پر اے سی صدر گوجرانوالہ اکرم بھنڈر کی سخت سرزنش کی تھی۔ ڈی سی او گوجرانوالہ نے یہ کہہ کر اس کی جان بچائی کہ ایسا کرنے کی ہدایت اس نے دی تھی۔ یہ ڈی سی او کا بڑا پن تھا۔ کم کم ہی افسر ایسے مواقع پر بات اپنے سر لیتے تھے۔ خالد سلطان بھی ایسے ہی ایک اور افسر تھے۔ وہ خود اپنے ماتحت کو جو چاہے کہہ لیں، مگر کوئی اور اس کی بے عزتی کرے، سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیلیوری بوائے نے خاتون کی برہنہ ویڈیو بنا کر اس کے شوہر کو بھیج دی
اختر نواز کا کردار
میرا دوست اور کولیگ اختر نواز بحیثیت اے ڈی ایل لاہور ایسی کئی باتوں کا چشم دید تھا۔ وہ بہت عرصہ خالد سلطان کے ساتھ اے ڈی ایل جی لاہور رہا تھا۔ اختر نواز سلجھا ہوا، قابل، سمجھ دار اور یار دوست انسان تھا۔ وہ ہمیشہ دوستوں کا خیال کرتا۔ ساتھیوں میں اس کی حیثیت لیڈر کی سی تھی۔ اس سے آج بھی رابطہ کل جیسا ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل کیس، ملزم ارمغان نے غیر قانونی کال سینٹر چلانے کے مقدمے سے نام نکالنے کے لیے درخواست عدالت میں جمع کرادی
درخواست کی صورتحال
سب سے کم اپیل اے سی کاموں کی ڈاکٹر افشاں رباب کی تھیں۔ یہ سی ایس پی اور سندھ کی رہائشی خوبصورت خاتون تھیں۔ دوران سماعت کمشنر کا نزلہ اے سی کھاریاں اقبال مظہر حسین پر گرا۔ اس نے حلقہ بندی کرتے کسی خاص سیاسی گروہ کو سپورٹ کرنے کی کوشش کی اور بھری عدالت میں اپنی بہت بے عزتی کروائی۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس اسٹیشن میں فریاد لے کر آنے والی خاتون کو ایس ایچ او نے مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا
وقفہ اور دوبارہ سماعت
میں نے کمشنر سے سماعت تھوڑی دیر کے لئے ملتوی کرنے کی درخواست کی جو انہوں نے منظور کر لی۔ ٹی ایم او کھاریاں شفقت منیر سے پوچھا کہ معاملہ کیا تھا؟ اس نے بتایا کہ "سر! لالچ کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔" میں نے وقفے کے دوران سچ کمشنر کو بتا دیا۔ سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وہ سخت نالاں تھے، غیر قانونی بات انہیں برداشت نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے منصوبے شفافیت کی علامت، مخالفین کے کلرکوں سے بھی اربوں نکلتے ہیں: عظمیٰ بخاری
حلقہ بندی کا فیصلہ
کمشنر نے اے سی کھاریاں کی خوب درگت بنائی اور اسے میرے کمرے میں جا کر حلقہ بندی قانون کے مطابق دوبارہ کرنے کا حکم دیا۔ مجھے کہنے لگے؛ "اس کے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن ابھی بھجواؤ۔" انہوں نے ڈی سی او گجرات کی بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ درست طور پر نگرانی نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: 4 کروڑ 80 لاکھ جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہو گئے
مظہر کا موقع
خیر، یہ سب میرے دفتر چلے آئے اور حلقہ بندی نئے سرے سے کی گئی۔ مظہر اقبال کا تو برا حال تھا۔ وہ منت سماجت کرتا رہا کہ "اسے صرف میں ہی بچا سکتا ہوں۔" جب اسے میرے اور شفقت کے تعلق کا پتہ چلا تو اس نے شفقت سے میری سفارش کروا ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود بندش میں مزید ایک ماہ توسیع کردی
کمشنر کی حکم
دوبارہ کمشنر کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے مجھے کہا؛ "شہزاد! حلقہ بندی چیک کر لی ہے۔" میں نے جواب دیا؛ "جی سر۔" میری سفارش پر مظہر کو معاف تو کر دیا گیا لیکن کھاریاں سے تبادلہ کروا دیا گیا۔
اختتام
ان کی جگہ افشاں رباب کی ٹرانسفر ہو گئی۔ مظہر پھر ڈی سی ڈی جی خاں بھی رہا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ تھا تو میری ان سے ملاقات روز ہوتی تھی۔ ہم دونوں اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔








