جیسا خیال کیا جا رہا تھا، کمشنر ایک ایک اپیل بڑے غور سے سنتے، اپیل کنندہ کو پورا موقع دیتے پھر اعتراضات پر متعلقہ ڈی سی او اپنا مؤقف بیان کرتا
مصنف کی جانب سے
شہزاد احمد حمید
یہ بھی پڑھیں: نوجوانوں کے لیے خوشخبری، پنجاب پولیس میں سب انسپکٹرز کی نوکریاں آگئیں۔
قسط: 450
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 2025 میں دہشت گردی کے واقعات میں کتنا اضافہ ہوا اور کتنے افراد لقمۂ اجل بنے۔۔؟ سیکیورٹی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات
الیکشن اپیلوں کی سماعت
جیسا خیال کیا جا رہا تھا، کمشنر ایک ایک اپیل بڑے غور سے سنتے۔ اپیل کنندہ کے وکیل کو پورا موقع دیتے کہ اپنا مؤقف بیان کرے اور پھر اس کے اعتراضات پر متعلقہ ڈی سی او اپنا مؤقف بیان کرتا۔ دوران سماعت اگر رولز سے معمولی سی بھی deviation ہوتی تو متعلقہ سرکاری افسر کی شامت آجاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا کا نیوزی لینڈ کے ہاتھوں کلین سویپ: ‘گمبھیر کے دور میں خوش آمدید’-1
کمشنر کی سرزنش
کمشنر نے ایک موقع پر اے سی صدر گوجرانوالہ اکرم بھنڈر کی سخت سرزنش کی تھی۔ ڈی سی او گوجرانوالہ نے یہ کہہ کر اس کی جان بچائی کہ ایسا کرنے کی ہدایت اس نے دی تھی۔ یہ ڈی سی او کا بڑا پن تھا۔ کم کم ہی افسر ایسے مواقع پر بات اپنے سر لیتے تھے۔ خالد سلطان بھی ایسے ہی ایک اور افسر تھے۔ وہ خود اپنے ماتحت کو جو چاہے کہہ لیں، مگر کوئی اور اس کی بے عزتی کرے، سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی
اختر نواز کا کردار
میرا دوست اور کولیگ اختر نواز بحیثیت اے ڈی ایل لاہور ایسی کئی باتوں کا چشم دید تھا۔ وہ بہت عرصہ خالد سلطان کے ساتھ اے ڈی ایل جی لاہور رہا تھا۔ اختر نواز سلجھا ہوا، قابل، سمجھ دار اور یار دوست انسان تھا۔ وہ ہمیشہ دوستوں کا خیال کرتا۔ ساتھیوں میں اس کی حیثیت لیڈر کی سی تھی۔ اس سے آج بھی رابطہ کل جیسا ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمت کارڈ فیز تھری کا آغاز ، 35 ہزار افراد مستفید ہوں گے: صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ
درخواست کی صورتحال
سب سے کم اپیل اے سی کاموں کی ڈاکٹر افشاں رباب کی تھیں۔ یہ سی ایس پی اور سندھ کی رہائشی خوبصورت خاتون تھیں۔ دوران سماعت کمشنر کا نزلہ اے سی کھاریاں اقبال مظہر حسین پر گرا۔ اس نے حلقہ بندی کرتے کسی خاص سیاسی گروہ کو سپورٹ کرنے کی کوشش کی اور بھری عدالت میں اپنی بہت بے عزتی کروائی۔
یہ بھی پڑھیں: ججز کی تعیناتیوں کے فریم ورک سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس طلب، 3 نکاتی ایجنڈا جاری
وقفہ اور دوبارہ سماعت
میں نے کمشنر سے سماعت تھوڑی دیر کے لئے ملتوی کرنے کی درخواست کی جو انہوں نے منظور کر لی۔ ٹی ایم او کھاریاں شفقت منیر سے پوچھا کہ معاملہ کیا تھا؟ اس نے بتایا کہ "سر! لالچ کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔" میں نے وقفے کے دوران سچ کمشنر کو بتا دیا۔ سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وہ سخت نالاں تھے، غیر قانونی بات انہیں برداشت نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور اسرائیل کا مل کر ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے ، پورے خطے کو جنگ میں جھونکا جا رہا ہے، حافظ نعیم الرحمان
حلقہ بندی کا فیصلہ
کمشنر نے اے سی کھاریاں کی خوب درگت بنائی اور اسے میرے کمرے میں جا کر حلقہ بندی قانون کے مطابق دوبارہ کرنے کا حکم دیا۔ مجھے کہنے لگے؛ "اس کے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن ابھی بھجواؤ۔" انہوں نے ڈی سی او گجرات کی بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ درست طور پر نگرانی نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: صومالیہ اور پاکستان میں دفاعی معاہدہ زیر غور، جے ایف 17 طیاروں کی خریداری کے لیے مذاکرات میں اہم پیشرفت
مظہر کا موقع
خیر، یہ سب میرے دفتر چلے آئے اور حلقہ بندی نئے سرے سے کی گئی۔ مظہر اقبال کا تو برا حال تھا۔ وہ منت سماجت کرتا رہا کہ "اسے صرف میں ہی بچا سکتا ہوں۔" جب اسے میرے اور شفقت کے تعلق کا پتہ چلا تو اس نے شفقت سے میری سفارش کروا ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کل بیجنگ جائیں گے
کمشنر کی حکم
دوبارہ کمشنر کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے مجھے کہا؛ "شہزاد! حلقہ بندی چیک کر لی ہے۔" میں نے جواب دیا؛ "جی سر۔" میری سفارش پر مظہر کو معاف تو کر دیا گیا لیکن کھاریاں سے تبادلہ کروا دیا گیا۔
اختتام
ان کی جگہ افشاں رباب کی ٹرانسفر ہو گئی۔ مظہر پھر ڈی سی ڈی جی خاں بھی رہا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ تھا تو میری ان سے ملاقات روز ہوتی تھی۔ ہم دونوں اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔








