جیسا خیال کیا جا رہا تھا، کمشنر ایک ایک اپیل بڑے غور سے سنتے، اپیل کنندہ کو پورا موقع دیتے پھر اعتراضات پر متعلقہ ڈی سی او اپنا مؤقف بیان کرتا
مصنف کی جانب سے
شہزاد احمد حمید
یہ بھی پڑھیں: میچ ریفری کا تنازع شدت اختیار کر گیا، پاکستان اپنے موقف پر قائم، آئی سی سی کو ایک اور خط لکھ دیا
قسط: 450
یہ بھی پڑھیں: 182 ممالک پنجاب سے چھوٹے ہیں، ہم بچوں کوصحیح خوراک بھی نہیں دے پارہے ، چھوٹے صوبے بنانے کے سوا مسائل کا کوئی حل نہیں :میاں عامر محمود
الیکشن اپیلوں کی سماعت
جیسا خیال کیا جا رہا تھا، کمشنر ایک ایک اپیل بڑے غور سے سنتے۔ اپیل کنندہ کے وکیل کو پورا موقع دیتے کہ اپنا مؤقف بیان کرے اور پھر اس کے اعتراضات پر متعلقہ ڈی سی او اپنا مؤقف بیان کرتا۔ دوران سماعت اگر رولز سے معمولی سی بھی deviation ہوتی تو متعلقہ سرکاری افسر کی شامت آجاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم تنظیم کے 23 ارب 40 کروڑ کے اثاثے اور 92 بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے ہیں: عظمیٰ بخاری
کمشنر کی سرزنش
کمشنر نے ایک موقع پر اے سی صدر گوجرانوالہ اکرم بھنڈر کی سخت سرزنش کی تھی۔ ڈی سی او گوجرانوالہ نے یہ کہہ کر اس کی جان بچائی کہ ایسا کرنے کی ہدایت اس نے دی تھی۔ یہ ڈی سی او کا بڑا پن تھا۔ کم کم ہی افسر ایسے مواقع پر بات اپنے سر لیتے تھے۔ خالد سلطان بھی ایسے ہی ایک اور افسر تھے۔ وہ خود اپنے ماتحت کو جو چاہے کہہ لیں، مگر کوئی اور اس کی بے عزتی کرے، سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹانک میں پولیس وین پر حملہ، 2 اہلکار جاں بحق، 3 شدید زخمی
اختر نواز کا کردار
میرا دوست اور کولیگ اختر نواز بحیثیت اے ڈی ایل لاہور ایسی کئی باتوں کا چشم دید تھا۔ وہ بہت عرصہ خالد سلطان کے ساتھ اے ڈی ایل جی لاہور رہا تھا۔ اختر نواز سلجھا ہوا، قابل، سمجھ دار اور یار دوست انسان تھا۔ وہ ہمیشہ دوستوں کا خیال کرتا۔ ساتھیوں میں اس کی حیثیت لیڈر کی سی تھی۔ اس سے آج بھی رابطہ کل جیسا ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں سابق شوہر کے کزن نے دوستوں کے ساتھ مل کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
درخواست کی صورتحال
سب سے کم اپیل اے سی کاموں کی ڈاکٹر افشاں رباب کی تھیں۔ یہ سی ایس پی اور سندھ کی رہائشی خوبصورت خاتون تھیں۔ دوران سماعت کمشنر کا نزلہ اے سی کھاریاں اقبال مظہر حسین پر گرا۔ اس نے حلقہ بندی کرتے کسی خاص سیاسی گروہ کو سپورٹ کرنے کی کوشش کی اور بھری عدالت میں اپنی بہت بے عزتی کروائی۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے کراچی کو تباہ کیا، اجرک کی آڑ میں لوٹ مار کا دھندا شروع کردیا : فاروق ستار
وقفہ اور دوبارہ سماعت
میں نے کمشنر سے سماعت تھوڑی دیر کے لئے ملتوی کرنے کی درخواست کی جو انہوں نے منظور کر لی۔ ٹی ایم او کھاریاں شفقت منیر سے پوچھا کہ معاملہ کیا تھا؟ اس نے بتایا کہ "سر! لالچ کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔" میں نے وقفے کے دوران سچ کمشنر کو بتا دیا۔ سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وہ سخت نالاں تھے، غیر قانونی بات انہیں برداشت نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور اسرائیل کی جنگ کے دوران امریکہ اور ایران کے خفیہ رابطے، رائٹرز کا دعویٰ
حلقہ بندی کا فیصلہ
کمشنر نے اے سی کھاریاں کی خوب درگت بنائی اور اسے میرے کمرے میں جا کر حلقہ بندی قانون کے مطابق دوبارہ کرنے کا حکم دیا۔ مجھے کہنے لگے؛ "اس کے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن ابھی بھجواؤ۔" انہوں نے ڈی سی او گجرات کی بھی ناراضگی کا اظہار کیا کہ درست طور پر نگرانی نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسمبلی میں جو لوگ بیٹھے ہیں، ان کی بیویاں، بچے اور خاندان والے بھی انہیں ایم این اے نہیں مانتے، یہ شکست خوردہ لوگ ہیں، اسد قیصر
مظہر کا موقع
خیر، یہ سب میرے دفتر چلے آئے اور حلقہ بندی نئے سرے سے کی گئی۔ مظہر اقبال کا تو برا حال تھا۔ وہ منت سماجت کرتا رہا کہ "اسے صرف میں ہی بچا سکتا ہوں۔" جب اسے میرے اور شفقت کے تعلق کا پتہ چلا تو اس نے شفقت سے میری سفارش کروا ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں: سندس فاؤنڈیشن کے وفد کی اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے وائس چیئرپرسن بیرسٹر امجد ملک سے ملاقات
کمشنر کی حکم
دوبارہ کمشنر کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے مجھے کہا؛ "شہزاد! حلقہ بندی چیک کر لی ہے۔" میں نے جواب دیا؛ "جی سر۔" میری سفارش پر مظہر کو معاف تو کر دیا گیا لیکن کھاریاں سے تبادلہ کروا دیا گیا۔
اختتام
ان کی جگہ افشاں رباب کی ٹرانسفر ہو گئی۔ مظہر پھر ڈی سی ڈی جی خاں بھی رہا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ تھا تو میری ان سے ملاقات روز ہوتی تھی۔ ہم دونوں اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔








