چہرے پر غصہ تھا مگر خاموش رہے، بات آئی گئی ہو گئی، اندر کا قانون دان جاگ چکا تھا، نئے پیٹرن پر فیصلے لکھنے پڑے، پھر سے دن رات کی محنت۔

مصنف: شہزاد احمد حمید

قسط: 451

سالگرہ کا پھڈا

اسی دوران ایک اور واقعہ بھی ہوا۔ ڈی سی او گجرات آصف بلال لودھی کے بیٹے کی سالگرہ تھی اور انہیں سالگرہ میں شرکت کے لئے لاہور جانا تھا۔ یہاں الیکشن کا اہم کام ہو رہا تھا اور آصف کا کمشنر کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن بھی نہ تھا۔

اجازت کی طلب

انہوں نے کمشنر سے لاہور جانے کی اجازت مانگی جو نہیں ملنی تھی۔ وہ افسردہ تھے۔ میں نے انہیں اداس سا دیکھ کر کہا؛ "سر! جائیں جا کر بیٹے کی سالگرہ منائیں۔ میں سنبھال لوں گا۔" وہ بولے؛ "ڈائریکٹر صاحب سوچ لیں۔ مروا نہ دینا"

کمشنر سے بات

میں نے کہا؛ "سر! جائیں۔ کمشنر آپ سے پوچھے تو کہہ دیں کہ ڈائریکٹر مقامی حکومت کو بتا دیا تھا اور اپنا سارا کام ختم کر چکا ہوں۔ انشا اللہ اللہ خیر کرے گا۔" وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے چلے گئے۔ کامونکی پہنچے ہوں گے کہ کمشنر نے انہیں فون کیا؛ "آصف کہاں ہو۔ میرے پاس آؤ۔"

کمشنر کا ردعمل

انہوں نے وہی جواب دیا جو میں انہیں بتا چکا تھا۔ کمشنر نے مجھے بلا لیا اور پوچھا؛ "کیوں جانے دیا آصف کو۔" میں نے کہا؛ "سر! ان کے سبھی اے سی، ٹی ایم اوز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر یہاں ہی ہیں۔ ان کا کام مکمل ہو چکا تھا۔ سر! بچوں کی سالگرہ سال میں ایک دن ہی آ نی ہوتی ہے انہیں ماں باپ کی شرکت کا انتظار رہتا ہے۔ اس لئے مجھے بتا گئے کہ جا رہاہوں۔"

آصف کا احترام

ان کے چہرے پر کچھ غصہ تو تھا مگر خاموش رہے۔ بعد میں بات آ ئی گئی ہو گئی۔ آصف بعد میں کمشنر لاہور رہے تو میں ڈائریکٹر لاہور ڈویثرن تھا۔ وہ ہمیشہ بڑی عزت سے ملتے اور میری اس چھوٹی سی فیور کو ہمیشہ یاد بھی رکھا اور اپنے کولیگز کو بھی بتاتے تھے۔

اپیلوں کی سماعت

ان اپیلوں کی سماعت مشکل مرحلہ تھا اور اپیلوں پر فیصلہ لکھنا اس سے بھی مشکل مرحلہ بلکہ امتحان ہی تھا۔ کمشنر بڑے مرضی والے تھے۔ انہوں نے فیصلے اسی طرز پر لکھوائے جیسے ہائی کورٹ کے جج لکھواتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ 2 صفحات کا تھا جبکہ حافظ آباد کا ایک فیصلہ 46 صفحات کا تھا۔

فیصلے لکھنے کی کوشش

میں نے کمشنر کو لاہور اور بہاول پور ڈویژنز کے لکھے فیصلے منگوا کر دکھائے جو بمشکل ایک صفحے سے دو تک کے تھے اور ان سے درخواست بھی کی کہ ہمیں بھی چھوٹے اور مختصر فیصلے لکھنے چاہئیں مگر وہ مرضی والے تھے اور خود کو سقراط بھی خیال کرتے تھے۔

مشقت کا وقت

فیصلے لکھنے کا وقت آیا تو میں نے انہیں دو تین مختلف طرز کے فیصلے بطور سیمپل لکھ کر دکھائے، انہوں نے ایک پیٹرن سے اتفاق کیا۔ ان کی منظوری سے میں نے دو راتیں جاگ کر نارووال، سیالکوٹ اور حافظ آباد ضلعوں کے فیصلے ڈرافٹ کئے۔ ایک شام جب دستخط کروانے ان کے کیمپ آفس آیا تب تک ان کے اندر کا قانون دان جاگ چکاتھا اور انہیں ہائی کورٹ کے جج کی طرز پر لکھے جانے والے پیٹرن کا خیال دماغ میں اتر چکا تھا۔

نئے پیٹرن پر فیصلے

میری وہ ساری محنت کھو کھاتے گئی اور نئے پیٹرن پر فیصلے لکھنے پڑے۔ پھر سے دن رات کی محنت۔ مناسب ہیومن ریسورس نہ ہونے کی وجہ سے دن میں تارے نظر آ گئے تھے۔ ویسے بھی کمشنر کسی کو بھی آسانی اور جلدی سے کام ختم کرنے کا موقع کم ہی دیتے تھے۔ بندے کو رگڑا لگاؤ ان کا گر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سارے ماتحت ان سے اکثر ناخوش ہی رہتے تھے۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...