ایران کے تمام اعلیٰ حکام محفوظ اور خیریت سے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایران کی قیادت کی زندگیوں بارے افواہیں
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت کی زندگیوں کے بارے میں پریشان کن افواہیں زیر گردش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ٹریفک روانی میں خلل ڈالنے اور پیشہ ور گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن، 48 گھنٹوں میں 310 زیر حراست
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان افواہوں پر کھل کر گفتگو کی اور کہا ہے کہ میری معلومات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بالکل خیریت سے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ، سرکاری ملازمین کی بحالی و مستقلی کے لئے سفارشات پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ برقرار
حملوں کے اثرات
البتہ انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ممکن ہے ہمارے ایک یا دو فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے ہوں لیکن تقریباً تمام اعلیٰ حکام محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ اور جمہوریت کے خلاف ہر سازش ناکام بنائیں گے، ایاز صادق
ایران کا موقف
ایران کشیدگی میں کمی چاہتا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں بند کریں۔ اگر امریکا دوبارہ ایران سے بات چیت شروع کرنا چاہتا ہے تو صدر ٹرمپ کو معلوم ہے کہ رابطہ کیسے اور کس طرح کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا خصوصی اجلاس، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی شرکت، اہم فیصلے
اسرائیلی فوج کا دعویٰ
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات موجود تھیں۔
مشترکہ فوجی آپریشن
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کے تحت کی گئی جس کا مقصد ایرانی قیادت اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانا تھا۔








