ایران کے تمام اعلیٰ حکام محفوظ اور خیریت سے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایران کی قیادت کی زندگیوں بارے افواہیں
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت کی زندگیوں کے بارے میں پریشان کن افواہیں زیر گردش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی مسائل کا حل اب اور قریب، چیف سیکرٹری آفس میں بڑا سسٹم تیار، وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا خصوصی ویڈیو پیغام جاری
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان افواہوں پر کھل کر گفتگو کی اور کہا ہے کہ میری معلومات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بالکل خیریت سے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طلباء کیلئے مزید خوشخبریاں لا رہے ہیں،جنوری تک لیپ ٹاپ سکیم بھی لانچ کریں گے:وزیر تعلیم
حملوں کے اثرات
البتہ انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ممکن ہے ہمارے ایک یا دو فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے ہوں لیکن تقریباً تمام اعلیٰ حکام محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑی اب چپ چاپ گزر جاتی تھی، سیٹی بھی بجاتی ہو گی لیکن گاؤں کی حد تک سنائی نہیں دیتی، چند مسافروں کا کچھ لین دین ہوتا پھر وہی کھیل شروع ہو جاتا
ایران کا موقف
ایران کشیدگی میں کمی چاہتا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں بند کریں۔ اگر امریکا دوبارہ ایران سے بات چیت شروع کرنا چاہتا ہے تو صدر ٹرمپ کو معلوم ہے کہ رابطہ کیسے اور کس طرح کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور تاجکستان میں حملوں کی ذمہ دار افغان حکومت ہے، پاکستان اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا، دفتر خارجہ
اسرائیلی فوج کا دعویٰ
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات موجود تھیں۔
مشترکہ فوجی آپریشن
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کے تحت کی گئی جس کا مقصد ایرانی قیادت اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانا تھا۔








