بیٹا! درویش کی پھونک میں بڑا اثر ہوتا ہے

مصنف کا تعارف

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 454

یہ بھی پڑھیں: اوپر والے نے جو لکھ دیا اسے کوئی نہیں بدل سکتا، اچانک بھارتی ورلڈ کپ سکواڈ میں جگہ بنانے والے محمد سراج پہلے میچ میں بہترین پرفارمنس کے بعد جذباتی ہو گئے

رات کی مصروفیات

رات 10 بجے تک میرے ساتھ تھا؛
حلقہ بندی کا کام کرتے اکثر دیر ہو جاتی تو رات میں سرکٹ ہاؤس میں ہی قیام کرتا تھا۔ یہاں علی الصبح وقار (یہ سب انجینئر تھا اور پرانا واقف کار تھا) ساگو دانہ کا ناشتہ کرواتا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب انجینئرنگ اکیڈمی کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس، تمام کورسز کو عالمی معیار کے ہم پلہ لانے کا فیصلہ

مشکل صورتحال

ایک روز میرے دفتر کا جونئیر کلرک رانا انجم شام کو جلدی اپنے بھائی بلال (یہ ایکسائیز ڈیپارٹمنٹ میں تھا) کے ساتھ جلد گھر روانہ ہو گیا۔ میں رات دیر گئے اپنے کمرے آیا تو انجم کا فون آیا، آواز میں پریشانی تھی۔ کہنے لگا؛ "سر! مشکل ہو گئی ہے۔ گھر آتے راستے میں موٹر وے پولیس نے روکا۔ چالان کیا تو تلخ کلامی ہو گئی اور موٹر وے پولیس کے انچارج انسپکٹر نے ایف آئی آر درج کرا دی ہے، میرا نام بھی ایف آئی آر میں ہے۔ کل پیشی ہے میری۔" سن کر مجھے بھی پریشانی ہوئی۔ اسے کہا; "بیٹا! صبح کوئی راستہ نکالتے ہیں تو سیدھا میرے پاس سرکٹ ہاؤس چلے آنا۔"

یہ بھی پڑھیں: بھارتی گلو کار ابھیجیت نے مہاتما گاندھی کو پاکستان کے بابائے قوم قرار دے دیا

مسئلے کا حل

رات میں نے اپنے پی اے شہزاد (یہ حافظ آباد کا رہنے والا بنیادی طور پر کمپیوٹر آپریٹر تھا، سمجھدار، تابع دار اور تیز بچہ تھا) کو فون کرکے صبح جلدی دفتر آنے کو کہا۔ انجم صبح زیادہ ہی جلدی میرے پاس پہنچ گیا۔ گو میں بھی صبح جلدی اٹھنے والوں میں سے ہوں اور سورج نکلنے کے بعد تک سونے والوں کو اچھا نہیں سمجھتا ہوں۔ میں انجم کے مسئلے کا حل رات کو ہی تلاش کر چکا تھا۔ وہ آیا دفتر پہنچے جہاں پی اے سے میں نے درج ذیل سرٹیفیکیٹ انجم کے حوالہ کیا؛

"میرے دفتر کا جونئیر کلرک رانا انجم اکرم رات 10 بجے تک کمشنر آفس میں میرے ساتھ الیکشن ڈیوٹی پر تھا۔"

یہ سرٹیفیکیٹ اس کے حوالے کیا اور وہ عدالت چلا گیا۔ واپس آیا تو ہاتھ میں مٹھائى کا ڈبہ تھا، کہنے لگا؛ "سر! موٹر وے والوں کو بہت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مجسٹریٹ نے ایف آئی آر ہی ختم کر دی ہے۔" میں نے جواب دیا؛ "بیٹا! درویش کی پھونک میں بڑا اثر ہوتا ہے۔" وہ نسلی راجپوت بچہ پھر بچوں کی طرح ہی ہو گیا۔ بہت عزت کرتا اور ہمیشہ میرے ساتھ ہی دفتر جاتا تھا۔ اس کا گاؤں "سالار" کامونکی سے کچھ پہلے جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔ میں لاہور سے نکلتے وقت اسے فون کرتا؛ "بیٹا اتنے بجے سالار سٹاف پر میرا انتظار کرنا۔" انجم ہمیشہ دئیے گئے وقت سے ایک دو منٹس لیٹ ہی ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک کے دوسرے عشرہ کی دعا

صحافت کی کالی بھیڑیں

ایک صحافی سے اپنی پہلی ناگوار ملاقات کا ذکر میں پہلے کہیں کر چکا ہوں۔ دوران سروس کوشش کی کہ ان جعلی صحافیوں سے دور ہی رہا جائے لیکن کبھی کبھار ان سے واسطہ پڑ جاتا تو ہمیشہ فرنٹ فٹ پر ہی کھیلتا تھا۔ بہاول پور تعیناتی کے دوران یہ اکثر میرے ایکسیئن کے دفتر اور ہرایس دفتر منڈلاتے جہاں ٹینڈر ہوتے تھے۔ یہ دفتر آتے اور چند خوش آمدی کلمات کے بعد شکایات کی پٹاری کھول دیتے۔ میں انہیں رخصت کر دیتا اور ایک آدھ بار ایسا بھی ہوا کہ اگلے دن میرے خلاف ہی اخبار کی سرخی ہوتی "ڈائریکٹر بد تہذیب انسان ہے۔ ٹھیکوں کی درست نگرانی نہیں کرتا۔ وغیرہ"۔ ایک روز میں نے اپنے ایکیسین عامر نسیم سے پوچھا؛ "آپ کیوں ان بلیک میلرز کو لفٹ کراتے ہیں؟" وہ کہنے لگا؛ "سر! لفٹ نہ کرائیں تو یہ اخبار میں خبر لگا دیتے ہیں۔ ان میں بعض کا رابطہ انٹی کرپشن سے بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا یہاں معمولی رقم دینا بہتر ہے بجائے کہ انٹی کرپشن کے ہتھے چڑھ جائیں۔" اس کی بات میں وزن تھا۔ بہرحال یہ بھی اس معاشرے کی صداقت ہے۔

نوٹ

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...