پاکستان کسی بھی ملکی یا غیر ملکی کو اپنے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کسی پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، صدر آصف زرداری
پاکستان کا عزم
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ملکی یا غیر ملکی کو اپنے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کسی پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے حکومت کیساتھ مذاکرات کو مسترد کر دیا، اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے تیار
قوموں کا امتحان
انہوں نے کہا کہ قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں، اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے، جمہوریہ کی طاقت آئین، عوامی ثابت قدمی، پارلیمنٹ اور حکومت کی ذمہ داری، مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے۔ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ہمیں اسی عزم کو آگے بڑھانا ہے، ملکی خودمختاری کا تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اپنے شہریوں کی خوشحالی اور امن کیلئے ترقی اور استحکام کا عمل آگے بڑھانا ہے، آج ہم اُن بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہماری قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھیں۔ قائدِاعظم نے ایسی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا جو آئین اور قانون کی حکمرانی پر قائم ہو، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا، بے نظیر بھٹو شہید نے قربانی اور مثالی قیادت سے جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی ضروری: دکی میں کوئلہ کان پر فائرنگ کے بعد 17 روز سے کام بند
پارلیمنٹ کی بالادستی
پارلیمنٹ کی بالادستی پر میرا ایمان صرف الفاظ تک محدود نہیں، گزشتہ دور میں یکطرفہ طور پر صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے، تاریخی 18ویں ترمیم کے ذریعے صدر مملکت کا منصب وفاق کی وحدت کی علامت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس نے بہت مارا اور کہا منہ بند کرو، جواباً کہا مار دو، جنت میں ہی جاوں گا: کامران قریشی
چیلنجز کا سامنا
صدر آصف زرداری نے کہا گزشتہ دس ماہ میں ہماری قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا۔ دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں پر ہماری افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا ثبوت دیا۔ ہماری بہادر افواج نے معرکۂ حق میں بھارتی حملے کو تاریخی تذویراتی فتح میں بدل دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی جریدے “دی ڈپلومیٹ” نے بھی پاکستان کی سفارتی کامیابی کو تسلیم کرلیا
عسکری اور سفارتی کامیابیاں
26 فروری کی رات طالبان رجیم نے مغربی سرحد پر حملے کیے۔ سیاسی قیادت متحد اور قوم ثابت قدم رہی، بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے عسکری اور سفارتی محاذوں پر کامیاب رہے۔ عالمی برادری نے ہماری اصولی اور فیصلہ کن کارروائی کو تسلیم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مختلف وجوہات کی بنا پر پہلے 12 سال میں صرف 59 لوکوموٹو ہی تیار کیے جا سکے، اس کے پیچھے بھی نالائق اور بدعنوان افسروں کی فوج ظفر موج تھی
سفارتی حمایت
مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہوسکتا، پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 ہمیں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کا حق دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہری پور: اراضی تنازع پر چچازاد بھائیوں کی فائرنگ سے باپ بیٹا قتل
خطے میں امن کی ضرورت
انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران چھیڑی جانے والی جنگ کی شدید مذمت کی، خطے کو مزید بحران سے بچانے کیلئے امن، تحمل اور مذاکراتی حل پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال
پاکستان کا مستقبل
پاکستان اور امریکا میں اسٹریٹجک تعاون اور شراکت داری کی نئی راہیں کھلی ہیں، پاکستان اور چین کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچے ہیں۔ سی پیک 2 پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے مظاہرے غیرمنظم، احتجاج کیلئے کوئی حکمت عملی ہی نہیں، شیر افضل کی قیادت پر تنقید
معاشی استحکام
معاشی استحکام اور قومی سلامتی لازم و ملزوم ہیں، ادارہ جاتی اصلاحات انتہائی ضروری ہیں۔ پاکستان کلین انرجی کے شعبے میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سماجی تحفظ کے فریم ورک بی آئی ایس پی کے ذریعے پسماندہ طبقوں کو بااختیار بنانا ہے۔
اختتام
آئیں آزمائش کے وقت میں اتحاد برقرار رکھیں، ہمیں یقینی بنانا ہے کہ معاشی فوائد عام آدمی کو پہنچیں۔








