سپروائزر کسی بھی دفتر کی ماں ہوتی ہے، کچھ چھپا نہیں ہوتا، تنخواہ میرے بچوں کا حق ہے اس میں خیانت نہیں کی جا سکتی، اوپر والی کوئی آمدنی ہے نہیں
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 455
یہ بھی پڑھیں: کے پی کے گورنر صوبے میں مہمان اداکار، کام صرف فیتے کاٹنا ہے: بیرسٹر سیف
ایک صحافی کا انٹرویو کی پیشکش
بہاول پور میں ایک دبلے پتلے صحافی کا میرے دفتر آنا جا تا۔ اس سے اچھی سلام دعا ہو گئی؛ “ایک روز کہنے لگا: ”سر! آج آپ کا انٹرویو کرنا ہے۔“ میں نے جواب دیا؛ ”انٹرویو کمشنر کا کرو۔“ بولا؛ ”سر! ان کی بات تو چھپتی رہتی ہے۔ آپ بس اپنی محکمہ کی پراگرس بتا دیں باقی میں خود ہی لکھ لوں گا۔“ ساتھ ہی اس نے میری دو تین تصاویر بنا ڈالیں۔ میرے آفس سپرنٹنڈنٹ خورشید صاحب میرے پاس بیٹھے یہ سب سن رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، مائی کولاچی لرزہ خیز قتل کی واردات میں ملوث گرفتار مرکزی ملزم کے تہلکہ خیز انکشافات
محکمہ کی سچائی
وہ کہنے لگا؛ ”سر! انہیں ذرا باہر بھیجیں آپ سے کچھ علیٰحدگی میں بات کرنی ہے۔“ میں مسکرایا اور اسے کہا؛ ”بیٹا سپرنٹنڈنٹ کسی بھی آفس کی ماں ہوتی ہے اس سے کچھ چھپا نہیں ہو تا۔ آپ کو جو کہنا ہے ان کے سامنے کہہ لو۔“ وہ بلا جھجک بولا؛ “سر! کچھ خدمت کریں۔ اخبار بھی چلانا ہوتا ہے۔“ میں نے جواب دیا؛ ”بیٹا! اسی لئے کہا تھا کہ میرا انٹرویو مت کرو۔ تنخواہ میرے بچوں کا حق ہے اور اس حق میں خیانت نہیں کی جا سکتی۔ اوپر والی میری کوئی آمدنی ہے نہیں اور یہ تم بھی جانتے ہو۔“
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ پر بھارت کی حقائق چھپانے کی ناکام کوشش
کمشنر کی تعیناتی
وہ بولا؛ ”سر! آپ اپنے ایکسین یا کسی انجینئر کو حکم کر دیں۔“ میں نے کہا؛ ”جو کام میں اپنے لئے پسند نہیں کرتا، تمھارے لئے بھی نہیں کر سکتا۔“ وہ چلا گیا لیکن کبھی کبھار سلام کرنے آ جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر منسٹر مریم اورنگ زیب کا وزراء سمیت جلال پور پیروالا کے نواحی بلوچ واہ بند کا دورہ
نیے حالات کا سامنا
بہاول پور ملک جہانزیب اعوان ڈائریکٹر اینٹی کرپشن تعینات ہوئے۔ یہ سی ایس پی افسر اور خاندانی آدمی تھے۔ انہوں نے آتے ہی ڈویثرن بھر سے کوئی پندرہ اٹھارہ بلیک میلرز کے خلاف ایف آئی آرز درج کیں ان کے چوہدریوں کو جیل ڈالا اور ان میں سے بعض تو کئی کئی ماہ جیل کی ہوا کھاتے رہے تھے۔ یوں وقتی طور پر ان سے جان چھوٹ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
گوجرانوالہ کی صحافت
گوجرانوالہ آیا تو یہاں آنے کے کچھ دنوں بعد ہی چند صحافیوں سے ملاقات خوشگوار حیرت میں تبدیل ہو گئی۔ ملک کے نامور اخبارات سے وابستہ یہ شاندار لوگ تھے۔ رانا عامر، بابر بٹ، ملک اعجاز یہ 2022ء میں برین ہیمرج سے انتقال کر گئے تھے۔ اللہ مغفرت فرمائے۔ آمین) شاہد رسول نگری (دنیا، یہ گوجرانوالہ پریس کلب کے فنانس سیکرٹری بھی رہے) ان سب سے میری اچھی گپ شپ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے اسرائیل پر حملے، ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی
بلیک میلر کا سامنا
دوسری طرف ایک بلیک میلر بھی تھا۔ یہ ہر وقت دھونس جمانے کی کوشش کرتا اور میرے دفتر سے ایک بار بے عزت ہو کر نکلا۔ پہلے اس نے شہباز چیمہ ایکسین لوکل گورنمنٹ کے خلاف جھوٹی درخواست دی۔ انکوائری کے بعد کچھ ثابت نہ ہوا تو میرے دفتر آ کر کہنے لگا؛ ”آپ نے اپنے ایکسین کی ناجائز حمایت کی تھی۔“ میں نے اسے ٹوکتے کہا؛ “سنو شہباز چیمہ کی اتنی جدی زمین ہے کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ میں تم جیسوں سے بلیک میل ہونے والا نہیں ہوں۔ جاؤ جا کر اپنی کہانی کمشنر صاحب کو سناؤ۔” کچھ عرصہ بعد اس نے گوجرانوالہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئر مین کے خلاف درخواست میں الزامات لگائے۔ یہ انکوائری میں نے کی کوئی بھی الزام ثابت نہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان میں خاتون کے گھر سے 100 کے قریب مردہ بلیاں برآمد
کمشنر کے سامنے قانون کی فتح
مسئلہ صرف یہ تھا کہ موصوف کسی سکیم میں مرضی کا پلاٹ چاہتا تھا جو نہیں ملا لہذا درخواست دے ڈالی۔ رپورٹ کمشنر کو بھیجنے سے پہلے یہ میرے پاس آیا اور دھمکی دی کہ اگر رپورٹ اس کی مرضی کی نہ ہوئی تو مشکل ہو گی۔“ میں نے اس بار اسے بے عزت کرکے دفتر سے نکال دیا۔ وہ نیچے کمشنر دفتر گیا اور میری شکایت کی۔ میں نے اپنے دوست مشہود شورش کو فون کر کے ساری صورت حال سے آگاہ کیا تو اس نے گوجرانوالہ پریس کلب کے صدر طارق منیر بٹ سے بات کی۔
اختتام
کمشنر نے چیئر مین گوجرانوالہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف درخواست پر میری رپورٹ سے ایگری کیا اور اس بلیک میلر کی کمشنر آفس ڈاخلے پر ہی پابندی لگا دی تھی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








