صنعتکاروں نے پیٹرولیم مصنوعات میں 55 روپے کا اضافہ مسترد کردیا
عبدالرحمان فُدا کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر تشویش
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر عبدالرحمان فُدا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک 55 روپے فی لیٹر کے غیر معمولی اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ ہنگامی صورتحال میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس فوری طور پر معطل کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے جنگ کے دوران پاکستان کو غیبی مدد کیسے ملی؟ محسن نقوی نے واقعات سنادیئے۔
عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے حکومت کو قیمتوں کے اثرات برداشت کرنا ہوں گے
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، حکومت کو چاہیے کہ اس اضافے کا سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے ٹیکس میں کمی کے ذریعے قیمتوں کے اثرات خود برداشت کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے فوری ریلیف نہ دیا تو مہنگائی کا طوفان آجائے گا اور صنعتی شعبے پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھ جائے گا جس کا اثر عوام پر بھی پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بڑے پیمانے پر مردہ مرغیوں کی ترسیل ناکام، گھناؤنا دھندہ کرنے والے ملزم کو گرفتارکرلیاگیا
ملکی معیشت پر منفی اثرات اور برآمدی صنعتوں کی مشکلات
عبدالرحمان فُدا کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافہ ملکی معیشت پر منفی اثر ڈالے گا اور صنعتی شعبے خصوصاً برآمدی یونٹس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فیول قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹیشن اور صنعتی خام مال کی قیمتوں میں بھی اضافے کا سبب بنے گا جس سے پیداواری لاگت مزید بڑھ جائے گی اور برآمدی صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے اور 30 فیصد الاؤنس کا نوٹیفکیشن جاری
عوامی بے چینی اور پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ
انہوں نے نشاندہی کی کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ اس وقت کیا گیا ہے جب ملک میں موجودہ اسٹاک نسبتاً کم قیمت پر خریدا گیا تھا۔ اس فیصلے نے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی پولیس کو اہم احکامات جاری
پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال کو کم کرنے کے لیے تجاویز
صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے تجویز دی کہ پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال کو کم کرنے کے لیے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور سرکاری افسران کے فیول کوٹے میں کم از کم 50 فیصد کمی کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال صارفین پیٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 121 اور 118 روپے فی لیٹر ٹیکس اور مارجن ادا کر رہے ہیں۔
حکومت سے فوری ریلیف کی درخواست
عبدالرحمان فُدا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو براہِ راست صارفین پر ڈالنے کے بجائے پیٹرولیم ٹیکس میں کمی کر کے فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔








