افغانستان میں صرف ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) ہی نہیں، 20 سے زائد دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں: افغان سیاستدان احمد مسعود نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا
افغانستان میں دہشتگردی کی صورتحال
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) ’’افغانستان میں صرف ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) ہی نہیں 20 سے زائد دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں‘‘ افغان سیاستدان احمد مسعود نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بدھا کے نایاب مجسموں کی سمگلنگ کی ناکام کوشش
احمد مسعود کا بیان
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق افغان سیاستدان احمد مسعود نے دہشتگردوں کے اڈوں کو بے نقاب کردیا۔ احمد مسعود کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’افغانستان کے حالات براہ راست افغان طالبان رجیم کے برے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ آج افغانستان اپنے لوگوں کے لیے جہنم اور دہشتگرد گروہوں کے لیے جنت بنا ہوا ہے، افغانستان میں صرف ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) ہی نہیں بلکہ 20 سے زائد دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں۔‘‘
افغان خواتین کی جدوجہد
دوسری جانب کابل میں افغان ویمن فریڈم لینٹرن موومنٹ اور افغان ویمن کرائی موومنٹ نے طالبان رجیم کے خلاف احتجاج کیا۔
افغان ویمن فریڈم لینٹرن موومنٹ کی اراکین نے ’’روٹی، کام، آزادی‘‘ اور ’’ہمارا دشمن طالبان‘‘ کے نعرے لگائے۔
افغان ویمن فریڈم لینٹرن موومنٹ نے کہا کہ افغان طالبان کی پالیسیوں سے بحران مزید سنگین شکل اختیار کر چکا ہے، پابندیوں نے خواتین کی تعلیم، روزگار اور احتجاج کے حقوق چھین لیے۔
افغان ویمن کرائی موومنٹ کا کہنا تھا کہ خواتین کو سیاسی، سماجی اور اقتصادی زندگی سے خارج کردیا گیا ہے، افغان طالبان رجیم میں خواتین بدترین صنفی امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔








