بیچاری عوام کو طفل تسلیاں ہیں، نا جانے کون سا وقت ہو گا جب سکھ کے لمحے ملیں گے، ہم جھوٹ نہیں چھوڑتے دوہرے کردار کے فرد ہیں
تضادات اور مفادات کا سماج
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 462
ہم مجموعی طور پر تضادات اور مفادات سے لتھڑا سماج ہیں۔ قیام پاکستان سے ہی ہم خطرے کا شکار رہے ہیں اور اب نئی بات یہ ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے والے ہیں۔ ہم ہمیشہ اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہے ہیں، ہیں اور رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول نے بھارت کے خلاف پاکستان کا مقدمہ یو این سیکرٹری جنرل کے سامنے پیش کر دیا
عوام کی حالت
دوسری طرف گٹھ جوڑ اور اللے تللے ہیں کہ بس خدا کی پناہ۔ عیاشی کی کہانیاں شرمندگی کی انتہا ہیں۔ عوام کے لیے طفل تسلیاں ہیں۔ نا جانے کب عوام کو سکھ کے کچھ لمحے نصیب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن بیان مرصوص نے دشمن کو دہلا دیا، بھارتی سٹاک مارکیٹ کو بڑا دھچکا
سیلاب اور حکمت عملی
دنیا کے بہت سے ممالک میں ہر سال سیلاب آتا ہے لیکن وہاں حکومتوں نے منصوبہ بندی کی ہے کہ کم سے کم نقصان ہو۔ وارننگ کا نظام موجود ہے جو بروقت اطلاع دیتا ہے۔ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے جہاں ان کی رہائش اور خوراک کا مناسب بندوبست ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں 17 سالہ لڑکی کے بطور سروگیٹ 50 برس کے شخص کے جڑواں بچوں کو جنم دینے پر ہنگامہ
ہماری تیاری
ہم بھی تیاری کرتے ہیں لیکن سیلاب گزرنے کے بعد اربوں روپے خرچ کرکے دریاؤں کے حفاظتی پشتے نئے سرے سے تعمیر کرتے ہیں کہ اگلے سیلاب میں وہ پھر بہہ جائیں گے۔ پچھلے 75 سال سے یہ سلسلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم نے سانحہ گُل پلازہ پر سندھ حکومت کی رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا۔
لیڈرز کا کردار
فہم اور دور اندیش لیڈرز نظام تشکیل دیتے ہیں۔ وہ چاہے رہیں یا نہ رہیں، نظام چلتا ہے اور عوام مستفید ہوتے ہیں۔ تاریخ میں عظیم لوگوں کی مثالیں ہمیں یہ بات سمجھاتی ہیں کہ ہمیں عوام کی سہولت کے بغیر کچھ نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور جنوبی افریقا کا میچ منسوخ ہونے پر فینز کیلئے اچھی خبر
مقامی مسائل
ہمارے سویلین حکمران مقامی مسائل کے حل کے لیے موثر بلدیاتی نظام قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں، نہ کوئی جدید صحت کی سہولت ہے، نہ تعلیم کا ادارہ، نہ کوئی قانون جس میں غریب شہری خود کو محفوظ سمجھیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا آئین بہت اچھا ہے، تمام مسائل کا حل موجود ہے جامع ہے، اس کے باوجود کوئی جمہوری حکومت یہاں اپنا رنگ نہیں دکھا سکی
معاشرتی تضاد
دوغلے لوگ؛ دو تین مرلوں کے گھروں سے آنے والے لوگ ریٹائر ہو کر عالی شان گھروں اور کڑوروں کے بنک بیلنس کے مالک بن جاتے ہیں۔ ان کے بچے ترقی یافتہ ممالک میں پڑھتے ہیں۔ انصاف دینے والے جج صاحبان دنیا کے سب سے مراعات یافتہ طبقہ ہیں، شاید بھول گئے ہیں کہ اللہ کے ہاں سخت جواب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ، پنجاب کے 6 اضلاع میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری
اخلاقیات کا بحران
ہم قول و فعل میں دوغلے ہیں اور دنیا کو مات دے چکے ہیں۔ میرا ایک جاننے والا جو اکثر تھائی لینڈ جاتا، کہا کرتا تھا: “یار! ہم حج کرکے اور نماز پڑھ کر بھی جھوٹ نہیں چھوڑتے۔ ہم دوہرے کردار کے دوغلے معاشرے کا حصہ ہیں۔”
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








