بیچاری عوام کو طفل تسلیاں ہیں، نا جانے کون سا وقت ہو گا جب سکھ کے لمحے ملیں گے، ہم جھوٹ نہیں چھوڑتے دوہرے کردار کے فرد ہیں
تضادات اور مفادات کا سماج
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 462
ہم مجموعی طور پر تضادات اور مفادات سے لتھڑا سماج ہیں۔ قیام پاکستان سے ہی ہم خطرے کا شکار رہے ہیں اور اب نئی بات یہ ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے والے ہیں۔ ہم ہمیشہ اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہے ہیں، ہیں اور رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو اہم شراکت دار قرار دیدیا
عوام کی حالت
دوسری طرف گٹھ جوڑ اور اللے تللے ہیں کہ بس خدا کی پناہ۔ عیاشی کی کہانیاں شرمندگی کی انتہا ہیں۔ عوام کے لیے طفل تسلیاں ہیں۔ نا جانے کب عوام کو سکھ کے کچھ لمحے نصیب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان حکومت کا بھارت میں وفات پانے والی آریان کی والدہ کی اپیل پر نوٹس، اخراجات ادا کردیئے
سیلاب اور حکمت عملی
دنیا کے بہت سے ممالک میں ہر سال سیلاب آتا ہے لیکن وہاں حکومتوں نے منصوبہ بندی کی ہے کہ کم سے کم نقصان ہو۔ وارننگ کا نظام موجود ہے جو بروقت اطلاع دیتا ہے۔ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے جہاں ان کی رہائش اور خوراک کا مناسب بندوبست ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن لیڈر اندر محصور ہیں، پارلیمنٹ لاجز کو تالے لگا کر بند کردیا گیا ہے، ایک قیدی کے لیے حق مانگنے کی سزا دی جا رہی ہے: مصطفیٰ نواز کھوکھر
ہماری تیاری
ہم بھی تیاری کرتے ہیں لیکن سیلاب گزرنے کے بعد اربوں روپے خرچ کرکے دریاؤں کے حفاظتی پشتے نئے سرے سے تعمیر کرتے ہیں کہ اگلے سیلاب میں وہ پھر بہہ جائیں گے۔ پچھلے 75 سال سے یہ سلسلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی چینی ہم منصب سے ملاقات، دونوں ممالک کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ
لیڈرز کا کردار
فہم اور دور اندیش لیڈرز نظام تشکیل دیتے ہیں۔ وہ چاہے رہیں یا نہ رہیں، نظام چلتا ہے اور عوام مستفید ہوتے ہیں۔ تاریخ میں عظیم لوگوں کی مثالیں ہمیں یہ بات سمجھاتی ہیں کہ ہمیں عوام کی سہولت کے بغیر کچھ نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف منسٹر پنجاب نے پوچھا کہ بار ایسوسی ایشنز میں مسلم لیگ کیوں ہار رہی ہے؟ خواجہ محمد شریف نے کہا، ”اس سوال کا جواب سچے مسلم لیگی ہی دے سکتے ہیں“۔
مقامی مسائل
ہمارے سویلین حکمران مقامی مسائل کے حل کے لیے موثر بلدیاتی نظام قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں، نہ کوئی جدید صحت کی سہولت ہے، نہ تعلیم کا ادارہ، نہ کوئی قانون جس میں غریب شہری خود کو محفوظ سمجھیں۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 16 ستمبر تک توسیع کر دی
معاشرتی تضاد
دوغلے لوگ؛ دو تین مرلوں کے گھروں سے آنے والے لوگ ریٹائر ہو کر عالی شان گھروں اور کڑوروں کے بنک بیلنس کے مالک بن جاتے ہیں۔ ان کے بچے ترقی یافتہ ممالک میں پڑھتے ہیں۔ انصاف دینے والے جج صاحبان دنیا کے سب سے مراعات یافتہ طبقہ ہیں، شاید بھول گئے ہیں کہ اللہ کے ہاں سخت جواب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں گرفتاریاں
اخلاقیات کا بحران
ہم قول و فعل میں دوغلے ہیں اور دنیا کو مات دے چکے ہیں۔ میرا ایک جاننے والا جو اکثر تھائی لینڈ جاتا، کہا کرتا تھا: “یار! ہم حج کرکے اور نماز پڑھ کر بھی جھوٹ نہیں چھوڑتے۔ ہم دوہرے کردار کے دوغلے معاشرے کا حصہ ہیں۔”
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








