سندھ میں 31مارچ تک تعلیمی ادارے بند رہیں گے تاہم کوئی بھی امتحان ملتوی نہیں ہوگا، سرکاری ملازمین جمعہ کو ورک فرام ہوم اور 4 دن دفاتر میں کام کریں گے، شرجیل میمن
سندھ کابینہ کا اجلاس
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بتایا ہے کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی صدارت میں سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں زیر تعلیم مقبوضہ جموں و کشمیر کے طلباء کیخلاف انتہا پسند ہندوؤں کا تشدد، “ہندو رکھشک دل” کی جانب سے ویڈیو پیغام میں وارننگ
نئے قوانین کی منظوری
اجلاس میں سندھ ایگریکلچر ویمن ورکرز رولز کی منظوری دی گئی جس کے تحت خواتین زرعی محنت کشوں کو مساوی اجرت، زچگی کی سہولیات اور ہراسانی و امتیاز سے تحفظ کے لیے قانونی اقدامات فراہم کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی کا دوہرا معیار، بنگلہ دیش کے صحافیوں کو ورلڈکپ کی کوریج سے بھی روک دیا
خواتین کی فلاح و بہبود
کابینہ نے بینظیر ویمن ایگریکلچرل ورکرز کارڈ جاری کرنے اور خواتین محنت کشوں کی فلاح کے لیے 50 کروڑ روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کی بھی منظوری دی۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ خواتین کو سماجی تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور وزیر محنت و صنعت اس سلسلے میں مشترکہ طور پر کام کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے جیفری ایپسٹین کی مزید دستاویزات جاری کرنے کے بل پر دستخط کردیے۔
طبی سہولیات میں بہتری
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے ملیر میں حسن سلیمان میموریل اسپتال کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری بھی دی ہے، یہ جدید اسپتال نیشنل ہائی وے پر شہریوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 67ہزار عازمین حج وزیراعظم کے سعودی ولی عہد سے براہ راست رابطے کے منتظر، بحران شدت اختیار کر گیا، بڑے نقصان کا خدشہ
تعلیمی اداروں کی بندش
بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر سندھ میں تعلیمی اداروں کو 16 مارچ سے 31 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم کوئی بھی امتحان ملتوی نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 خوارج ہلاک
سرکاری دفاتر کے نئے انتظامات
اس کے علاوہ سرکاری دفاتر کے لیے نئے انتظامات کے تحت جمعے کے روز ورک فرام ہوم ہوگا جبکہ باقی چار دن ملازمین دفاتر میں کام کریں گے۔ سندھ کابینہ نے کفایت شعاری اقدامات کے تحت فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ دو ماہ تک سرکاری دفاتر میں ہر قسم کی سرکاری ریفریشمنٹ بند رہے گی۔
معاشی اور انتظامی چیلنجز
رمضان المبارک کے دوران چائے، ناشتے یا دیگر سرکاری ریفریشمنٹ فراہم نہیں کی جائے گی جبکہ ملازمین اگر ذاتی طور پر پانی یا دیگر اشیاء استعمال کرنا چاہیں تو وہ اپنی ذمہ داری پر کریں گے۔ ملک کو درپیش معاشی اور انتظامی چیلنجز کے پیش نظر سب کو مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا。








