جو ردائے نور ہے مستقل۔۔یہی طاق راتوں کی شان ہے
جو ردائے نور ہے مستقل
جو ردائے نور ہے مستقل۔۔یہی طاق راتوں کی شان ہے
میرے زخمِ دل ہوئے مندمل یہی طاق راتوں کی شان ہے
یہ بھی پڑھیں: سری لنکن کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان ادھورا چھوڑ کر جانے کی درخواست، وزیرداخلہ محسن نقوی کی یقین دہانی پر فیصلہ واپس
تازگی و بندگی
یہ جو جسم و جاں میں ہے تازگی۔یہ جو خوب تر ہوئی بندگی
یہ جو روح اب نہیں مضمحل یہی طاق راتوں کی شان ہے
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کی دوڑ میں کون آگے ہے؟
رہِ آگہی
رہِ آگہی کے ہیں در کھلے۔۔لگے زنگ دل کے دھلے دھلے
لگیں رب سے رابطے متصل۔۔یہی طاق راتوں کی شان ہے
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ فلسطین و کشمیر کی قراردادوں کے نفاذ میں ناکام، اسلامی ممالک کو مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت: نواز شریف
بندھیں ہچکیاں
بندھیں ہچکیاں جو قیام میں۔۔جو رکوع رکے ہیں سلام میں
جو دعا ہے توبہ پہ مشتمل۔۔یہی طاق راتوں کی شان ہے
فضائے شب
ہو فضائے شب بھی خنک خنک۔۔۔کوئی چاپ سی ہو فلک فلک
نظر آئے موسمِ معتدل۔۔یہی طاق راتوں کی شان ہے
کلام: سیدہ صائمہ کامران








