1965ء میں حملہ آور دشمن اپنے کئی علاقے بھی کھو چکا تھا، پاک فوج اور قوم نے جس بہادری اور شجاعت سے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے وہ ہمیشہ یاد رکھے گا
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط:85
محمد حسین کی ملاقات
جب محمد حسین، حسن شاہد زیدی سے اُن کے دفتر میں ملا تو گاڑی کی لاگ بک اُس کے ہاتھ میں تھی جو اُس نے سامنے میز پر رکھ دی اور حسن شاہد زیدی صاحب کو بتایا کہ وہ تمام ضروری ڈیٹا لے آیا ہے کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ اِس دوران زیدی صاحب نے سامنے پڑی لاگ بک اٹھائی اور اُس میں پچھلے دن کا اندراج دیکھا تو محمد حسین سے پوچھنے لگے کہ لائل پور (اب فیصل آباد) لاہور براستہ شیخوپورہ کتنے میل ہے؟
مشکل سوالات اور جواب
اُس نے فوراً بتایا کہ جناب 85 میل کا فاصلہ ہے۔ زیدی صاحب گویا ہوئے کہ آنے جانے کی Mileage کو جمع کریں تو کل Mileage لاہور، فیصل آباد آنے جانے کی اصل Mileage سے 25 میل زیادہ بنتے ہیں۔ لہٰذا اُن 25 میلوں کا حساب دو۔ اُن دنوں لائل پور گھنٹہ گھر کے 8 بازاروں کے سوا کوئی پھیلاؤ نہ ہوا تھا۔ جہاں آدمی تفریحاً جا سکے اور گاڑی استعمال کرسکے۔
پہلی چوری کی سزا
محمد حسین کو لاجواب ہونا پڑا اور بتایا کہ وہ جاتے ہوئے سیدھے راستے برائے شیخوپورہ جانے کی بجائے براستہ جڑانوالہ گیا تھا کیونکہ وہاں مجھے اپنے ایک رشتہ دار سے ملنا تھا۔ زیدی صاحب کہنے لگے فوراً کھڑے ہوجائیں اور اکاؤئنٹنٹ کے پاس اپنی جیب سے 25 میل کے پیسے جمع کروا کر مجھے رسید دکھائیں۔
چنانچہ محمد حسین اکاؤئنٹنٹ کے پاس گیا۔ 25 میل کے پیسے جمع کروائے، رسید دکھائی تو زیدی صاحب وارننگ دیتے ہوئے گویا ہوئے۔ ”یہ تمہاری پہلی چوری بے ضابطگی ہے میں تمہیں معاف کرتا ہوں اگر آئندہ پھر کبھی اس طرح کی حرکت کی تو نوکری سے فارغ کروادوں گا۔“
1965ء کی جنگ اور اس کے اثرات
1965ء میں جو جنگ ہندوستان نے پاکستان پر مسلط کی تو پاکستانی فوج اور قوم نے جس بہادری اور شجاعت سے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے وہ ہمیشہ یاد رکھے گا اور حملہ آور دشمن اپنے کئی علاقے بھی کھو چکا تھا۔ بہرحال جنگ ملکوں کو چند ہی دنوں میں دیوالیہ بنا کر رکھ دیتی ہے۔ ہمیں تنخواہ کبھی دو کبھی تین ماہ بعد ملنے لگی۔
فیلڈ ڈیوٹی کے لیے گاڑیوں میں پیٹرول ڈلوانے کے لیے جو ایڈوانس ملتا تھا وہ بھی بند ہوگیا۔ لہٰذا پمپ مالکان کی چاپلوسی کر کے کریڈٹ پر پیٹرول لینے لگے۔ لیکن جلد ہی اُن کو باقاعدگی سے ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے کئی پیٹرول پمپ مالکان نے پیٹرول دینے سے ہاتھ کھینچ لیا۔
زیدی صاحب کی سختی
ہم چھ سات جونیئر فیلڈ افسران ایک دن ”زیدی صاحب“ کے دفتر میں لائن بنا کر عرض کرنے لگے کہ کریڈٹ پر پٹرول نہیں ملتا لہٰذا کام بند کردیا جائے۔ زیدی صاحب نے صرف ایک جملہ کہا کہ ٹھیک ہے ”جاؤ کام بند کردو تمہیں سب کو نوکری سے فارغ کروائے دیتا ہوں۔“ یہ جواب سن کر کان لپیٹ کر باہر آگئے۔
زیدی صاحب کے حالات
یاد رہے جب ”حسن شاہد زیدی“ ہمارے دفتر میں بطور سینئر ریسرچ آفیسر تعینات ہوئے تو انہوں نے باغبانپورہ میں کرایہ پر مکان لیا کہ اُن کا اپنا کوئی ذاتی گھر نہ تھا اور کئی سال سروس کرنے کے بعد جب ریٹائر ہوئے تو اُسی کرایہ کے گھر میں مقیم تھے۔
ایک لڑکا ملازم بھی ہوگیا تھا۔ یاد رہے زیدی صاحب سموکر تھے۔ اُن دنوں ”قینچی“ برانڈ کا سگریٹ ہوتا تھا وہ پیتے تھے، اور ہاتھ کے ایک جھٹکے سے سگریٹ کی راکھ جھاڑا کرتے تھے تو اُن کے دبدبے میں دگنا اضافہ ہوجاتا تھا۔
میٹنگ کے بعد کی صورتحال
جاتے جاتے ایک چُٹکلہ بھی ہوجائے تو مضائقہ نہیں۔ دفتر میں سب افسران کی ایک میٹنگ ڈائریکٹر محمد اصغر نے بلا رکھی تھی۔ میٹنگ کے بعد نماز کا وقت ہوگیا تو سبھی نماز کی ادائیگی کے لیے وضو کرنے کے لیے بکھر گئے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








