امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملک بھر میں تقریباً 43 ہزار شہری عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں بڑی تعداد رہائشی مکانات کی ہے، ایران
ایرانی حکام کی طرف سے بیان
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی حکام کا کہنا ہے 28 فروری سے جاری امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران بھر میں تقریباً 43 ہزار شہری عمارتیں نقصان کا شکار ہوئی ہیں، جن میں بڑی تعداد رہائشی مکانات کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشوریا رائے کی ایک اور تصویر نے سب کی توجہ حاصل کرلی ، ابھیشیک سے طلاق کی افواہیں پھر سے زور پکڑ گئیں
عمارتوں کا نقصان
الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بتایا متاثرہ عمارتوں میں سے تقریباً 36 ہزار 500 رہائشی یونٹس شامل ہیں، جبکہ مجموعی طور پر شہری ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوپیک پلس ممالک کا تیل کی پیداوار میں معمولی اضافہ کرنے پر اتفاق
دارالحکومت تہران میں متاثرہ عمارتیں
انہوں نے بتایا کہ صرف دارالحکومت تہران میں ہی تقریباً 10 ہزار عمارتیں حملوں کی زد میں آئیں۔ اس کے علاوہ امدادی اور تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ حملوں کے دوران 43 ایمرجنسی یونٹس، 32 ایمبولینسیں اور 120 اسکول بھی نشانہ بنے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اسرائیل کی دفاعی امداد روکنے کی دھمکی امریکہ کے ٹوٹتے وعدوں پر غصے کا اظہار ہے؟
جانے والی جانیں
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک کم از کم 223 خواتین جاں بحق ہو چکی ہیں، جبکہ جاں بحق ہونے والے طلبہ اور اساتذہ کی مجموعی تعداد بڑھ کر 206 ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کا ابوظہبی میں سپریم کونسل برائے مدر ہُڈ اور اطفال کا دورہ، اقدامات کو سراہا
شناخت شدہ اعداد و شمار
قبل ازیں ایرانی ہلال احمر سوسائٹی نے رپورٹ کیا تھا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 36 ہزار 500 رہائشی مکانات کو نقصان پہنچ چکا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار میں مجموعی شہری یونٹس کی تعداد تقریباً 43 ہزار بتائی گئی ہے۔
عالمی برادری کی توجہ
ایرانی حکومت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ شہری آبادی، تعلیمی اداروں اور امدادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے واقعات کا نوٹس لیا جائے اور جنگی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔








