ایران نے امریکہ سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ملک جب تک ضروری ہوا اپنے دفاع کے لیے تیار رہے گا‘‘ ایرانی وزیر خارجہ
ایران کی جنگ بندی کی درخواست کی تردید
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ملک جب تک ضروری ہوا اپنے دفاع کے لیے تیار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے فقیر بنا دیا ہے، میرے پاس کوئی انٹرویو کیلئے نہ آئے،’ اداکار راشد محمود یوٹیوبرزپر برہم
امریکا کے ساتھ مذاکرات کی عدم دلچسپی
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران نے نہ تو کسی قسم کے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اور نہ ہی جنگ بندی کے لیے کوئی درخواست دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت کسی سیز فائر یا بات چیت کے لیے تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور:پنجاب یونیورسٹی ہاسٹلز میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کیخلاف آپریشن، سینکڑوں قابضین بے دخل
ایران کا دفاعی عزم
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور جب تک ضرورت ہوگی اس موقف پر قائم رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی صادق آباد پہنچ گئے
ٹرمپ کی جنگ کی غیر قانونی نوعیت
انہوں نے کہا کہ جب تک امریکی صدر ٹرمپ یہ نہیں سمجھ لیتے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ غیر قانونی ہے، اس وقت تک ایران اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کویت میں امریکہ کے تین ایف 15 طیارے گر گئے ہیں، یہ ممکنہ طور پر فرینڈلی فائر کا نشانہ بنے، سینٹ کام
مضبوط اور مستحکم ایران
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران مضبوط اور مستحکم ہے اور اس وقت امریکا سے مذاکرات کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف سے مذاکرات کی تیاری، منی بجٹ کیلئے 7 تجاویزموجود
ماضی کے مذاکرات کا تجربہ
ان کے مطابق جب ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا تو اسی دوران امریکا نے ایران پر حملہ کر دیا، اس لیے امریکا کے ساتھ بات چیت کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں مرحوم ملازمین کی اولاد کے لیے ملازمت کا کوٹہ ختم کردیا گیا
علاقائی تعلقات اور سمندری راستے
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز سے اپنے جہازوں کو گزارنے کے لیے کئی ممالک ایران سے رابطہ کر چکے ہیں۔
ٹرمپ کا دعویٰ اور ایران کا جواب
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور جنگ میں شکست کے بعد مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے کی تردید کر دی گئی ہے.








