ایران نے امریکہ سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ملک جب تک ضروری ہوا اپنے دفاع کے لیے تیار رہے گا‘‘ ایرانی وزیر خارجہ
ایران کی جنگ بندی کی درخواست کی تردید
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ملک جب تک ضروری ہوا اپنے دفاع کے لیے تیار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: حالات عام نہیں، سندھ حکومت سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے سوچ رہی ہے: ناصر حسین شاہ
امریکا کے ساتھ مذاکرات کی عدم دلچسپی
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران نے نہ تو کسی قسم کے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اور نہ ہی جنگ بندی کے لیے کوئی درخواست دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت کسی سیز فائر یا بات چیت کے لیے تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد میں شادی کی تقریب کے دوران خواجہ سراء قتل
ایران کا دفاعی عزم
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور جب تک ضرورت ہوگی اس موقف پر قائم رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: زمبابوے کے خلاف میچ میں دھواں دار سنچری کے بعد صائم ایوب کی گفتگو
ٹرمپ کی جنگ کی غیر قانونی نوعیت
انہوں نے کہا کہ جب تک امریکی صدر ٹرمپ یہ نہیں سمجھ لیتے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ غیر قانونی ہے، اس وقت تک ایران اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی خاتون پائلٹ نے بوائے فرینڈ سے جھگڑے کی وجہ سے خود کشی کر لی
مضبوط اور مستحکم ایران
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران مضبوط اور مستحکم ہے اور اس وقت امریکا سے مذاکرات کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کی سالگرہ: عماد وسیم کی پوسٹ پر سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کا سخت ردعمل
ماضی کے مذاکرات کا تجربہ
ان کے مطابق جب ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا تو اسی دوران امریکا نے ایران پر حملہ کر دیا، اس لیے امریکا کے ساتھ بات چیت کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: کوٹ لکھپت جیل ٹرائل مکمل، آج فیصلہ سنائے جانے کا امکان
علاقائی تعلقات اور سمندری راستے
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز سے اپنے جہازوں کو گزارنے کے لیے کئی ممالک ایران سے رابطہ کر چکے ہیں۔
ٹرمپ کا دعویٰ اور ایران کا جواب
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور جنگ میں شکست کے بعد مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے کی تردید کر دی گئی ہے.








