خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: بی بی سی اردو
ایران کے سابق سپریم لیڈر کی جانشینی پر شکوک
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بی بی سی اردو نے سی بی ایس نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ نئی انٹیلی جنس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے بیٹے کو جانشین بنانے کے حوالے سے شکوک و شبہات رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے پرعزم ہیں: وزیراعظم
بے اعتمادی کی وجوہات
امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خامنہ ای کو اپنے بیٹے مجتبی خامنہ ای کے اقتدار سنبھالنے کے بارے میں خدشات تھے، کیونکہ انہیں لیڈر بننے کے لیے ’نااہل‘ سمجھا جاتا تھا۔ خامنہ ای جانتے تھے کہ ان کے بیٹے کی ’ذاتی زندگی میں مسائل‘ موجود ہیں۔ یہ معلومات پہلے ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقوں کو پہنچا دی گئی تھیں۔
مجتبی خامنہ ای کا انتخاب
56 سالہ آیت اللہ مجبتی خامنہ ای کو گذشتہ ہفتے کے آخر میں ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔








