افغان میڈیا نے کابل ہسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی
کابل ہسپتال حملے کے جھوٹے دعوے
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) افغان میڈیا نے کابل ہسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔
یہ بھی پڑھیں: سیزفائر کی خلاف ورزیاں امن عمل کی روح متاثر کر رہی ہیں،فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں : وزیراعظم شہباز شریف
ہلاکتوں کی عدم موجودگی
افغان میڈیا کے مطابق حملے کے دوران ہلاکتوں، خون کے آثار اور بڑی تباہی کے نشانات نہیں ملے۔ افغان طالبان حکام کے بحالی مرکز پر حملے کے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: میں پورے بھارت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ پنجاب اور ہریانہ کے بغیر آپ روٹی نہیں کھا سکتے” بھگونت من
آگ کے بارے میں حقائق
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ کابل میں بحالی مرکز کے قریب لگی آگ معمولی نوعیت کی تھی، بحالی مرکز کے قریب آگ قریبی طالبان فوجی کیمپ پر حملے کے باعث لگی۔
یہ بھی پڑھیں: ایئر انڈیا حادثہ، بھارتی فلم ساز بھی لاپتا، آخری بار موبائل فون سنگل کہاں پر ٹریس ہوا؟
اقوام متحدہ کی تصدیق
اقوام متحدہ کے ادارے برائے افغانستان نے بھی 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 5 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، سیلابی صورتحال میں شدت کا امکان
عینی شاہدین کی گواہی
افغان میڈیا کی رپورٹر نے بھی ہسپتال میں موجود عینی شاہدین کے ذریعے طالبان رجیم پروپیگنڈا آشکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے استعفیٰ دیدیا
زخمیوں کی تعداد
افغان میڈیا کے مطابق اس وقت کابل سینٹرل ہسپتال میں 15 زخمی زیر علاج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ کے ٹیسٹ کرکٹر رابرٹ اینڈرسن انتقال کرگئے
پاکستان کے فضائی حملے
خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں کامیاب فضائی حملے کیے، ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر تباہ کیا۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ نے اس سے پہلے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز پر حملے میں 400 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا بیان
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے ہسپتال پر حملے کا جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی اور افغان طالبان رجیم کو جھوٹی پوسٹس ڈیلیٹ کرنا پڑیں۔








