افغان میڈیا نے کابل ہسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی
کابل ہسپتال حملے کے جھوٹے دعوے
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) افغان میڈیا نے کابل ہسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔
یہ بھی پڑھیں: متناسب طریقہ نمائندگی کے تحت منتخب ہونے والی اسمبلیاں مختلف طبقات کی صحیح عوامی نمائندہ ہونگی جس سے جمہوریت اور سیاسی جماعتیں مضبوط ہونگی۔
ہلاکتوں کی عدم موجودگی
افغان میڈیا کے مطابق حملے کے دوران ہلاکتوں، خون کے آثار اور بڑی تباہی کے نشانات نہیں ملے۔ افغان طالبان حکام کے بحالی مرکز پر حملے کے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں آئندہ ہفتے تک جنگ بندی ہو جائے گی: ٹرمپ نے امید کا اظہار کر دیا
آگ کے بارے میں حقائق
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ کابل میں بحالی مرکز کے قریب لگی آگ معمولی نوعیت کی تھی، بحالی مرکز کے قریب آگ قریبی طالبان فوجی کیمپ پر حملے کے باعث لگی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں مساجد سے نمازیوں کے موبائل چوری کرنے والا ملزم گرفتار
اقوام متحدہ کی تصدیق
اقوام متحدہ کے ادارے برائے افغانستان نے بھی 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا ایران کی بندرگاہ پر دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس
عینی شاہدین کی گواہی
افغان میڈیا کی رپورٹر نے بھی ہسپتال میں موجود عینی شاہدین کے ذریعے طالبان رجیم پروپیگنڈا آشکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھاکہ میں قائداعظم محمد علی جناح کے 149ویں یومِ پیدائش پرخصوصی تقریب، مقررین کا شاندار الفاظ میں خراج تحسین
زخمیوں کی تعداد
افغان میڈیا کے مطابق اس وقت کابل سینٹرل ہسپتال میں 15 زخمی زیر علاج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اہم تبادلے و تقرریاں
پاکستان کے فضائی حملے
خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں کامیاب فضائی حملے کیے، ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر تباہ کیا۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ نے اس سے پہلے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز پر حملے میں 400 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا بیان
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے ہسپتال پر حملے کا جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی اور افغان طالبان رجیم کو جھوٹی پوسٹس ڈیلیٹ کرنا پڑیں۔








