بلوچستان میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام، خودکش بمبار لڑکی گرفتار
کوئٹہ میں سکیورٹی آپریشن
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) میں سکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کر کے دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کے لیے تیار ہیں، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
پریس کانفرنس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اس کامیاب کارروائی کا ذکر کیا۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی بلوچستان میں امن و سلامتی کے لیے اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبی وسائل کو چھوٹے بڑے ڈیموں کی شکل میں ذخیرہ کرکے بنجر علاقوں کی لاکھوں ایکڑ اراضی کو آباد کرنے اور سیلاب سے بچانے کی ضرورت ہے
خودکش بمبار کی کہانی
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ افغانستان دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ بلوچستان کے لوگ اب دہشتگردی کو قبول نہیں کرتے۔ گرفتار خاتون خودکش بمبار لائبہ نے نیوز کانفرنس میں اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ ضلع خضدار سے تعلق رکھتی ہیں اور طالبان کمانڈر ابراہیم نے انہیں خودکش بمباری کے لیے تیار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بہاولنگر؛ سرکاری سکول کی طالبہ گرمی کی شدت سے جاں بحق
سکیورٹی اقدامات اور عوامی تعاون
وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر داخلہ نے اس کامیاب آپریشن کے بعد مزید اقدامات کا عندیہ دیا تاکہ بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ سرفراز بگٹی نے تمام سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی کوششوں سے بلوچستان میں امن و امان قائم رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نوشکی میں آئل ٹینکرحادثے کا ایک اور زخمی چل بسا، ہلاکتوں کی تعداد 34 ہوگئی
معاشرتی چالیں اور خواتین کی حفاظت
سرفراز بگٹی نے بتایا کہ شورش کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بلوچستان کی قوم کو سوچناایت کی ضرورت ہے کہ انہیں لاحاصل جنگ کی جانب دھکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ خواتین کے معاملات اور حساس کیسز کو صرف لیڈیز پولیس حل کرے گی تاکہ خواتین کے حقوق اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، بھارت میں دیرینہ مسائل کی وجہ سے خطے میں دہشتگردی ہورہی ہے: امریکا
حفاظتی کارروائیاں
مزید برآں، وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی سے بڑی تباہی ٹل گئی ہے۔ انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا جس میں معصوم جانیں محفوظ رہیں اور عوام کو بچایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: تیرہ کروڑ کی ڈکیتی، ٹک ٹاکرز سمیت 4 ملزمان کے ریمانڈ میں توسیع
بچوں اور خواتین کے حقوق
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت اور ادارے معصوم بچوں کی ذہن سازی کو شدت پسندی کی طرف جانے سے روکنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوامی آگاہی مہم کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ عوام اس سلسلے میں فعال کردار ادا کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بنگلہ دیش ٹی ٹوئنٹی سیریز کا شیڈول تبدیل
خاتون خودکش بمبار کی شناخت
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران کالعدم دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کی خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمہ 19 سالہ ہے اور ضلع خضدار کی تحصیل زہری سے تعلق رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صرف 7 منٹ میں متحدہ عرب امارات کا 10 سالہ ویزا حاصل کرنے کا طریقہ کار سامنے آگیا
تحقیقات کے نتائج
تحقیقات کے مطابق ملزمہ جولائی 2025 میں بی ایل اے میں شامل ہوئی۔ اس نے بی ایل اے کمانڈر سلیم جان عرف دل جان کے ساتھ رابطہ رکھا اور سابق ٹی ٹی پی کمانڈر ابراہیم عرف قاضی کے لیے بھی سہولت فراہم کرتی رہی۔
پیشگی خراج تحسین
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس کامیاب کارروائی پر سکیورٹی اداروں کو خراج تحسین پیش کیا اور عوام کو کہا کہ وہ کسی بھی غلط سرگرمی یا دہشتگردانہ منصوبے کا حصہ نہ بنیں۔








