تیل کا ایک جہاز آ گیا، دوسرا جلد پہنچنے والا ہے، ملک میں ڈیزل کا ذخیرہ 24 دن کے لیے کافی ہے، پیٹرولیم ڈویژن کی بریفنگ
اجلاس کا اہم مقصد
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت پیٹرول پرائسز مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سپلائی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس ریٹ کم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، چیئرمین ایف بی آر
پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی
بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی مستحکم ہے، ملک میں فی الحال ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ حکام پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ ملک میں ڈیزل کا ذخیرہ تقریباً 24 دن کے لیے کافی ہے، جبکہ پیٹرول کی سپلائی بھی تسلی بخش سطح پر برقرار ہے۔ ایک آئل کارگو کراچی پہنچ چکا ہے اور دوسرا جلد پہنچنے والا ہے۔ وزارت خزانہ نے کہا کہ مزید آئل شپمنٹس راستے میں ہیں، مارچ اور اپریل کے لیے انتظام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی ٹیکس قوانین پر عملدرآمد بڑھانے کیلئے مزید سخت اقدامات کی تجویز
عالمی منڈی کی صورتحال
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور دباؤ برقرار ہے، مہنگے تیل کی وجہ سے درآمدی اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ وزارت خزانہ نے کہا کہ ایل سی کی بڑھتی ہوئی سائز کی وجہ سے درآمد میں مشکلات ہیں۔ وزیر خزانہ نے بینکس اور درآمد کنندگان کے درمیان بہتر تعاون کی ہدایت کر دی۔ اسٹیٹ بینک اور بینکوں کو سہولت دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ،ڈانس پارٹی کے ملزمان کی ویڈیو وائرل ہونے پر تھانیدار نے معافی مانگ لی
ذخیرہ اندوزی کے خلاف اقدامات
اعلامیہ کے مطابق ضرورت پڑنے پر مشترکہ فنانسنگ کے آپشن پر بھی غور کیا گیا، ملک میں ایندھن کی طلب میں حالیہ دنوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ وزیر خزانہ نے ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے سخت نگرانی کی ہدایت کی۔ وزارت پیٹرولیم نے کہا کہ عید اور فصل کی کٹائی کے دوران بھی سپلائی جاری رہے گی، اس مقصد کے لیے آئل کمپنیاں مکمل طور پر تیار ہیں۔
ڈیجیٹل سسٹم کی بہتری
اجلاس میں ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے ایندھن کی نگرانی مزید بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور تمام اداروں کو بروقت ڈیٹا شیئر کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت متبادل ممالک سے تیل کی سپلائی بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ توانائی کی سیکیورٹی مضبوط بنانے کے اقدامات جاری ہیں، عوام کو ریلیف دینا اور سپلائی برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔








