فیلڈ مارشل کی علمائے کرام سے ملاقات، قومی اتحاد اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ پر زور
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی علمائے کرام سے ملاقات
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی علمائے کرام سے ملاقات ہوئی جس میں قومی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ملک میں اتحاد، برداشت اور ہم آہنگی کے فروغ میں علما کے کردار پر زور دیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل کی اہل تشیع کے علمائے کرام سے ملاقات میں گمراہ کن معلومات، فرقہ واریت اور بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، آپریشن غضب للحق کا حوالہ دیتے ہوئے افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دینے کا دوٹوک مؤقف بیان کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی پورٹ سے متحدہ عرب امارات کے لیے نئی فیڈر سروس کا آغاز کر دیا گیا
پاکستان کی سفارتی کوششیں
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا، مذہبی جذبات کو تشدد کیلئے بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کسی دوسرے ملک میں ہونے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شیر اپنا راستہ خود منتخب کرتا ہے اور ہمیشہ اُس پر رواں دواں رہتا ہے، مولانا حسرت موہانی عمر بھربھارتی مسلمانوں کے حقوق کی نگہبانی کرتے رہے۔
علما کرام کا کردار
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ علما کرام اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، علما کرام گمراہ کن معلومات، فرقہ وارانہ بیانیہ اور بیرونی سازشوں کے تدارک میں اپنا کردار ادا کریں، انتہاپسندی کے خاتمے اور قومی اتحاد کے فروغ میں علما اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
یہ بھی پڑھیں: چونڈہ میں ایسی جنگ تھی جس کا انجام دیکھ کر بڑے بڑے مغربی جرنیل بھی دنگ رہ گئے، دنیا بھر کے جنگی تبصرہ نگاروں نے اسے پاکستان کی واضح فتح قرار دیا
افغان طالبان کا مؤقف
چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا کہ افغان طالبان اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، پاکستان اپنے عوام کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پتوکی میں ریٹائرڈ سکول ٹیچر کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا
دہشت گردی کے خلاف عزم
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو جہاں کہیں بھی ہوئے، آپریشنز کے ذریعے ختم کیا جائے گا، آپریشن غضب للحق کا مقصد یہی ہے، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جہاں بھی ہوں، خفیہ معلومات کی بنیاد پر مؤثر کارروائیاں جاری رہیں گی۔
علمائے کرام کا ردعمل
آئی ایس پی آر کے مطابق علمائے کرام نے مذہب کے نام پر تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی، علمائے کرام نے ملک میں امن و استحکام کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔








