علی لاریجانی فلسفی اور ایسے مذاکرات کار تھے جن کیساتھ میز پر بیٹھ کر معاملات طے کیے جا سکتے تھے: البرادعی
محمد البرادعی کا بیان
قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سابق سربراہ محمد البرادعی نے کہا کہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کے ساتھ میز پر بیٹھ کر معاملات طے کیے جا سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا میں حق و باطل کا معرکہ برپا ہے، اہل غزہ نے واضح لکیر کھینچ دی: سراج الحق
علی لاریجانی کی قابلیت
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق ایک بیان میں محمد البرادعی نے ایران کی قومی سلامتی کونسل کے شہید سیکرٹری کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''کم لوگ جانتے ہیں کہ علی لاریجانی نے جرمن فلسفی عمانویل کانٹ پر 4 کتابیں لکھی تھیں، وہ فلسفی اور ایک ایسے مذاکرات کار تھے جن کے ساتھ میز پر بیٹھ کر معاملات طے کیے جا سکتے تھے۔''
آخری ملاقات اور نماز
شہادت سے چند روز قبل علی لاریجانی کی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات ہوئی تھی۔ کریملن میں ہوئی اس ملاقات سے پہلے نماز کا وقت ہونے پر لاریجانی نے دروازے کے 2 میٹس جوڑ کر کاغذ اور رومال بچھا کر نماز ادا کی تھی۔ ان کی شہادت کے بعد وہ ویڈیو وائرل ہوگئی۔








