مہنگائی، بے روزگاری کا حل دور دور تک نظر نہیں آتا، مہنگی بجلی، مہنگی تعلیم نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، 2 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر رہ گئے
مصنف: رانا امیر احمد خان
قسط: 347
پارلیمانی نظام کی ناکامی
موجودہ پارلیمانی نظام کرپٹ نظام، غیر منصفانہ اور غیر جمہوری بھی
گزشتہ 70 سالوں سے پاکستان میں جاری و ساری پارلیمانی نظام عوام کے مسائل حل کرنے، ملک کو شاہرائے ترقی پر گامزن کرنے میں یقینی طور پر ناکام نظر آتا ہے۔ پاکستان میں آج بھی جہالت، بیماری اور غربت کا راج ہے۔ ہمارے 2 کروڑ بچے سکولوں سے باہر اَن پڑھ رہ گئے ہیں۔ پارلیمنٹ، سینٹ اور اسمبلیوں میں عوام کے مفاد میں قانون سازی ہوتی نظر نہیں آتی۔ مہنگائی، بے روزگاری کا حل دور دور تک نظر نہیں آتا۔
سیاسی عدم استحکام اور کرپشن
آئی پی پیز کی مہنگی تھرمل بجلی، مہنگی تعلیم نے عوام الناس کی زندگی اجیرن بنائی ہوئی ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن حلقوں میں ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیاں، کورونا وباء کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کی پی ڈی ایم کی جانب سے وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے کے حق میں جلسے، جلوس، ریلیاں، پارلیمنٹ میں سپیکر کو جوتا مارنے کی دھمکیاں، حکومتی پارٹی کے اپنے ارکان کی جانب سے جہانگیر ترین کی حمایت میں اپنی حکومت کو دھمکیاں اور بلیک میل کرنے کی کوشش، تمام حربے پارلیمانی نظام کے شاخسانے ہیں۔
سیاسی خاندانوں کی منطق
پارلیمانی نظام سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ ایک کرپٹ نظام بھی ہے جس میں سینیٹ اور اسمبلیوں میں آنے والے کنگلے ممبران بھی چند سالوں میں امیر ترین ہوتے نظر آتے ہیں۔ ملک کے بڑے حکمران خاندان جن کی سیاسی پارٹیاں بھی خاندانی وراثتی پارٹیاں نظر آتی ہیں، ان کا ملک کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے بقول حکومت اور نیب ملک کے اندر اور بیرون ملک، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، فرانس، سوئٹزر لینڈ اور امریکہ میں بے تحاشا دولت اور پراپرٹی پاکستان کی لوٹ مار اور منی لانڈرنگ سے بنائی ہوئی ہے۔
موجودہ نظام کی غیر جمہوری نوعیت
اسی وجہ سے پاکستان کی بیشتر سیاسی پارٹیاں پارلیمانی کرپٹ نظام اور اپنے کرپٹ لیڈروں کی حمایت میں کمربستہ نظر آتی ہیں۔ پارلیمانی طرزِ حکومت صدارتی نظامِ حکومت کے مقابلے میں ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرنے، کرپشن کا بازار گرم کرنے کے ساتھ ساتھ غیر منصفانہ اور غیر جمہوری بھی ہے۔ 2021 ء میں کراچی حلقہ 249 کے ضمنی الیکشن میں ایم این اے کی سیٹ پر 5 فیصد ووٹ لینے والے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو کامیابی ملی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہارنے والی پارٹیوں کو پڑنے والے ووٹ پندرہ فیصد جمع 80 فیصد الیکشن کے عمل میں حصہ نہ لیکر عدم اعتماد کا اظہار کرنے والے کل 95 فیصد ووٹرز نے کامیاب امیدوار کی حمایت سے انکار کیا ہے۔
صدارتی نظام کی ضرورت
موجودہ پارلیمانی نظام کے غیر منصفانہ اور غیر جمہوری طرزِ انتخاب کی کمزوریوں کا واحد حل صدارتی نظام اور متناسب طریقۂ نمائندگی میں ہے۔ صدارتی نظام جمہوری ہے کیونکہ صدر مملکت پوری قوم کے اکثریتی ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے۔ یہ کرپشن سے پاک بھی ہے کیونکہ ممبران پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کا کام قانون سازی اور بجٹ پاس کرنے تک محدود ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ، صدارتی نظام سیاسی استحکام کا حامل ہے کیونکہ حکومت کی آئینی 5 سالہ مدت مکمل ہونے سے پہلے حکومت کی تبدیلی تقریباً ناممکنات میں سے ہے۔ اس طرزِ حکومت میں حکومتوں کو یکسوئی سے مسائل پر توجہ دینے اور ملک کو شاہرائے ترقی پر گامزن کرنے کے زیادہ مواقع حاصل ہوتے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








