ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، تاہم اسے باقاعدہ مذاکرات نہیں کہا جا سکتا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ اسے باقاعدہ مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر کی گرفتاری کی کوشش، کس طرح ایک نجی ٹی وی چینل کے دفتر تک پہنچے؟
پیغامات کی نوعیت
الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کی جانب سے انہیں براہِ راست پیغامات موصول ہوتے رہے ہیں، جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ ہم کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ تمام پیغامات وزارتِ خارجہ کے ذریعے بھیجے یا موصول کیے جاتے ہیں، جبکہ سکیورٹی اداروں کے درمیان بھی رابطے موجود ہیں۔
ماضی کے تجربات اور عدم اعتماد
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے ساتھ ماضی کے تجربات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو مذاکرات سے اچھا تجربہ نہیں ملا۔ انہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے Joint Comprehensive Plan of Action کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک معاہدہ طے پانے کے باوجود امریکہ اس سے الگ ہو گیا تھا۔ ہمیں یقین نہیں کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کوئی نتیجہ دیں گے، اعتماد کی سطح صفر ہے اور ہمیں دیانت نظر نہیں آتی۔








