بیوی کے مبینہ قاتل اور چار سال سے مفرور انڈین فوج کے سابق کپتان جو گیس سلینڈر بھروانے کے سبب پکڑے گئے
سابق کپتان کی گرفتاری
ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) انڈین پنجاب کے شہر فاضلکہ کی پولیس نے فوج کے سابق کپتان سندیپ تومر کو گرفتار کر لیا ہے، جو اپنی بیوی کے قتل کے مقدمے میں تقریباً چار سال سے مفرور تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے علیمہ خان کو منع کر رکھا ہے کہ وہ جیل کے باہر بیان نہ دیں، تاہم علیمہ خان بار بار خلاف ورزی کرتی ہیں، ان کا ہر بیان متنازعہ ہوتا ہے، شیرافضل مروت
پولیس کی تفتیش
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس نے بتایا کہ وہ ایل پی جی سلینڈر بھروانے اور مالی لین دین کے دوران اپنی اصلی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور پی اے این کارڈ استعمال کر رہے تھے۔ پولیس نے اسی سراغ کی مدد سے ان تک رسائی حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ وہ اپنی آنکھ کی حالت پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں، مریم وٹو
کیس کا پس منظر
ایس ایس پی گُرمیت سنگھ کے مطابق سابق کیپٹن سندیپ تومر کے خلاف 2013 میں آئی پی سی کی دفعہ 304 بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر اپنی بیوی کے ساتھ بدسلوکی، جہیز کے مطالبے اور ان کی موت کا سبب بننے جیسے الزامات تھے۔ یہ مقدمہ ان کے سسر کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اس سال 35 مختلف عالمی زبانوں میں ترجمہ کر کے خطبہ حج نشر کرنے کی تیاریاں
قتل کا واقعہ
پولیس کے مطابق سندیپ تومر نے اپنی بیوی شویتا سنگھ کو قتل کیا اور اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ بعد ازاں پولیس کی تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل تھا۔ واقعے کے روز ہی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان پر روس کے حملے کے نتیجے میں 50 لاکھ مہاجرین کا سیلاب اْمڈ آیا،جس نے پاکستان کی معیشت اور معاشرے پر برے اثرات مرتب کیے
عدالتی کارروائی
سندیپ تومر اس مقدمے میں تقریباً پانچ سال جیل میں رہے۔ تاہم 2019 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے انھیں ضمانت پر رہا کر دیا۔ 2022 میں عدالت نے دوبارہ انھیں سرینڈر کرنے کا حکم دیا مگر انھوں نے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیش ہونے سے انکار کیا اور 2022 سے مفرور تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بگ بیش لیگ میں انتہائی سست بیٹنگ کرنے پر محمد رضوان کو زبردستی ریٹائر کر کے باہر بلا لیا گیا
گرفتاری کی تفصیلات
پولیس حکام کے مطابق ان کی تلاش جاری رہی اور آخرکار 28 مارچ کو فاضلکہ پولیس نے مدھیہ پردیش پولیس کی مدد سے انھیں گرفتار کیا۔ سندیپ تومر کا تعلق اتر پردیش کے شہر کانپور سے ہے۔ واقعے کے وقت وہ پنجاب کے شہر ابوہَر میں 12 بہار رجمنٹ میں کیپٹن کے طور پر تعینات تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر تنازعہ ایٹمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے: برطانوی پارلیمنٹ
شادی اور الزام
ایف آئی آر کے مطابق دونوں کی شادی فروری 2013 میں ہوئی تھی اور شویتا سنگھ کی موت 8 جولائی 2013 کو ہوئی۔ مرنے والی خاتون کے والد کے مطابق شادی کے کچھ عرصے بعد ہی سندیپ تومر اور ان کے گھر والے جہیز کے لیے شویتا کو پریشان کرنے لگے تھے اور یہ بات انھوں نے اپنی والدہ کو بھی بتائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے یا میری فیملی کو نقصان پہنچا تو (ن) لیگ کی قیادت ذمہ دار ہو گی، آصف کرمانی
مقدمے کی ابتدا
8 جولائی کو انھیں بیٹی کی موت کی اطلاع ملی جس کے بعد انھوں نے داماد سندیپ تومر کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ ایس ایس پی کے مطابق پہلے تو ملزم نے اپنی بیوی کی موت کو خودکشی قرار دیا لیکن تفتیش میں ثابت ہوا کہ یہ قتل ہی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان بنگلہ دیش کے دورے پر روانہ
سزا کی تصدیق
2014 میں مقامی عدالت نے سندیپ تومر کو قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ اس کے بعد انھیں فیروزپور جیل بھیج دیا گیا اور فوج نے بھی انھیں برخاست کر دیا۔ تقریبا پانچ سال سزائے قید کاٹنے کے بعد انھوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جس کے بعد 2019 میں انھیں ضمانت پر رہائی ملی۔
یہ بھی پڑھیں: حملے میں اب تک ایران کے 48 رہنما مارے جاچکے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی
تاہم 2022 کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔ اس پر عمل کرنے کے بجائے وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے اور فرار ہو گئے۔ 2024 میں شکایت کنندہ نے دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ عدالت کے حکم پر ایس پی فاضلکہ کی سربراہی میں تین رکنی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے سندیپ تومر کی تلاش جاری رکھی۔
یہ بھی پڑھیں: چکن کی قیمت کا تعین نہ ہو سکا، دکانداروں نے انتظامیہ کے دعوے ہوا میں اڑ دئیے، مرضی کے ریٹ مقرر
نئی شناخت کا استعمال
ایس ایس پی فاضلکہ کے مطابق ضمانت پر رہائی کے بعد سندیپ تومر نے اپنی شناخت تبدیل کر لی تھی اور ملک کے مختلف حصوں میں کام کر رہے تھے۔ گرفتاری کے وقت وہ دوسری شادی بھی کر چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز سے تاشقند کے گورنر زوئیر مرزا ایوف کی 7 رکنی وفد کے ہمراہ ملاقات
حلیے کی تبدیلی
چار سال کے دوران انھوں نے اپنا حلیہ اور پتا دونوں بدلے اور پنجاب کے بعد اڑیسہ، بنگلورو اور مدھیہ پردیش میں رہائش اختیار کرتے رہے۔ ایس ایس پی کے مطابق ’کچھ دن پہلے ان کے بینک سٹیٹمنٹ سے پتا چلا کہ وہ ایک گیس ایجنسی سے ایل پی جی سلینڈر بھرواتے ہیں۔
گرفتاری کا عمل
’جب گیس ایجنسی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موجودہ پتا دستیاب ہوا۔‘ یہ معلومات مقامی پولیس کے ساتھ شیئر کی گئیں اور وہاں سے سندیپ تومر کو فوراً گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں فاضلکہ پولیس کی ایک ٹیم انھیں پنجاب لے آئی جہاں مقامی عدالت نے انھیں ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔








