لاہور رنگ روڈ حادثہ میں مبینہ پولیس افسر کا بیٹا ملوث، موقع سے فرار ہونے میں کامیاب، مقدمہ درج
لاہور رنگ روڈ حادثہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں سوشل میڈیا پر لاہور رنگ روڈ کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر کا ڈرائیور خطرناک انداز سے گاڑی چلا رہا ہے۔ یہ گاڑی بے قابو ہو کر ساتھ گزرتی سیاہ رنگ کی ہنڈا سوک کار سے ٹکرا جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں زیروپولیو کیس کا ہدف مقرر، کسی بھی بچے کا پولیو کے رسک پر ہونا ہر گز گوارا نہیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز
پولیس کے انسپکٹر کے بیٹے کا مبینہ کردار
مقامی ویب سائٹ "پاکستان 24" کے مطابق سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ لینڈ کروزر مبینہ طور پر ایک پولیس کے انسپکٹر کا بیٹا چلا رہا تھا۔ لاہور کے تھانہ کاہنہ میں درج کیے گئے مقدمے سے بھی اس شبے کو تقویت ملتی ہے کہ لینڈ کروزر کا ڈرائیور کسی بااثر خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیوچر کی بزنس کلب کے زیر اہتمام لاہور میں “دبئی پراپرٹی شو” کا انعقاد
حادثے کی ویڈیو اور مقدمہ
اس گاڑی کے حادثے کی ویڈیو اب تک لاکھوں صارفین دیکھ چکے ہیں، مگر ایف آئی آر میں اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ مقدمہ لاہور ٹریفک پولیس کے اہلکار جمیل احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر افسران کام صحیح نہیں کرتے تو پھر قانون کے دائرے میں سخت سے سخت سزا دیں گے: شرجیل میمن
مدعی اہلکار کی گواہی
مدعی اہلکار نے لکھا ہے کہ وہ بسلسلہ ٹریفک کنٹرول سرکاری گاڑی پر ساتھی اہلکار شاہد کے ہمراہ بلوکی کے علاقے کاچھا انٹرچینج کی جانب موجود تھا جب ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر نمبر اے وائی ایل 914 انتہائی غفلت اور لاپرواہی سے زگ زیگ کرتی ہوئی آئی۔
یہ بھی پڑھیں: معروف صنعت کار چوہدری فیصل ممتاز کی صاحبزادی اصفیٰ فیصل رشتہ ازدواج میں منسلک
ایف آئی آر کی تفصیلات
ٹریفک پولیس اہلکار کے مطابق اس نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا مگر وہ نہ رکی۔ جس کو اپنے ساتھی اہلکار کی مدد سے بمشکل قابو کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق لینڈ کروزر کے ڈرائیور کا نام محمد علی شاہ ولد ابرار شاہ ہے۔ مزید یہ کہ ڈرائیور خود وہاں سے فرار ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اپنی اہلیہ کے دوسرے شوہر ہوں: شاہد کپور کا حیران کن انکشاف
مقدمے کی قانونی دفعات
پٹرولنگ آفیسر رنگ روڈ جمیل احمد کی مدعیت میں یہ مقدمہ رات نو بجے درج کیا گیا حالانکہ حادثہ دن کے وقت پیش آیا تھا۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 279 لگائی گئی ہے، جو خطرناک طریقے سے گاڑی چلانے پر دو سال قید یا تین ہزار روپے جرمانے یا دونوں سزائیں دلا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای میں شہری کی ساڑھے 7ارب روپے سے زائد کی لاٹری نکل آئی
سوشل میڈیا صارفین کی آراء
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق ایف آئی آر میں بددیانتی نظر آتی ہے کیونکہ گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور اس نے دیگر گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔ پٹرولنگ افسر نے مقدمے میں لکھوایا کہ اپنے ساتھی اہلکار کے ہمراہ گاڑی کو روکا جبکہ ملزم ڈرائیور اس حادثے کے بعد بآسانی فرار ہو گیا، جس کا مطلب ہے کہ پولیس اسے گرفتاری سے بچانا چاہتی تھی۔
پولیس کی اضافی غلطیاں
ایف آئی آر میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک اور غلطی بھی نظر آتی ہے، جہاں ملزم ڈرائیور کے والد کے نام کے ساتھ "صاحب" لکھا گیا ہے۔








