لاہور رنگ روڈ حادثہ میں مبینہ پولیس افسر کا بیٹا ملوث، موقع سے فرار ہونے میں کامیاب، مقدمہ درج
لاہور رنگ روڈ حادثہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں سوشل میڈیا پر لاہور رنگ روڈ کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر کا ڈرائیور خطرناک انداز سے گاڑی چلا رہا ہے۔ یہ گاڑی بے قابو ہو کر ساتھ گزرتی سیاہ رنگ کی ہنڈا سوک کار سے ٹکرا جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 278 کی لاشیں کہاں ہیں جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ قتل کیا گیا ہے، رانا ثناءاللہ کا استفسار
پولیس کے انسپکٹر کے بیٹے کا مبینہ کردار
مقامی ویب سائٹ "پاکستان 24" کے مطابق سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ لینڈ کروزر مبینہ طور پر ایک پولیس کے انسپکٹر کا بیٹا چلا رہا تھا۔ لاہور کے تھانہ کاہنہ میں درج کیے گئے مقدمے سے بھی اس شبے کو تقویت ملتی ہے کہ لینڈ کروزر کا ڈرائیور کسی بااثر خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون کو اغوا یا سرعام برہنہ کرنے والے کو پناہ دینے پر سزائے موت ختم کرنے کا بل منظور
حادثے کی ویڈیو اور مقدمہ
اس گاڑی کے حادثے کی ویڈیو اب تک لاکھوں صارفین دیکھ چکے ہیں، مگر ایف آئی آر میں اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ مقدمہ لاہور ٹریفک پولیس کے اہلکار جمیل احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کڑے احتساب کے بغیر کوئی قوم آگے بڑھ سکتی ہے نہ غربت ختم کی جا سکتی ہے، بیرون ملک پاکستانی بڑا اثاثہ ہیں انہیں ملکی معاملات میں شامل کرنا ہو گا
مدعی اہلکار کی گواہی
مدعی اہلکار نے لکھا ہے کہ وہ بسلسلہ ٹریفک کنٹرول سرکاری گاڑی پر ساتھی اہلکار شاہد کے ہمراہ بلوکی کے علاقے کاچھا انٹرچینج کی جانب موجود تھا جب ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر نمبر اے وائی ایل 914 انتہائی غفلت اور لاپرواہی سے زگ زیگ کرتی ہوئی آئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں تعلیمی سرگرمیاں یکم ستمبر سے بحال ہوں گی، پاک پتن، عارفوالا میں تاحکم ثانی بند رکھنے کا اعلان
ایف آئی آر کی تفصیلات
ٹریفک پولیس اہلکار کے مطابق اس نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا مگر وہ نہ رکی۔ جس کو اپنے ساتھی اہلکار کی مدد سے بمشکل قابو کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق لینڈ کروزر کے ڈرائیور کا نام محمد علی شاہ ولد ابرار شاہ ہے۔ مزید یہ کہ ڈرائیور خود وہاں سے فرار ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پبلک سروس کمیشن نے تحریری اور حتمی نتائج کا اعلان کر دیا
مقدمے کی قانونی دفعات
پٹرولنگ آفیسر رنگ روڈ جمیل احمد کی مدعیت میں یہ مقدمہ رات نو بجے درج کیا گیا حالانکہ حادثہ دن کے وقت پیش آیا تھا۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 279 لگائی گئی ہے، جو خطرناک طریقے سے گاڑی چلانے پر دو سال قید یا تین ہزار روپے جرمانے یا دونوں سزائیں دلا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین: جمع شدہ رقم واپس لینے پر بچے نے والد کیخلاف مقدمہ دائر کر دیا
سوشل میڈیا صارفین کی آراء
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق ایف آئی آر میں بددیانتی نظر آتی ہے کیونکہ گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور اس نے دیگر گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔ پٹرولنگ افسر نے مقدمے میں لکھوایا کہ اپنے ساتھی اہلکار کے ہمراہ گاڑی کو روکا جبکہ ملزم ڈرائیور اس حادثے کے بعد بآسانی فرار ہو گیا، جس کا مطلب ہے کہ پولیس اسے گرفتاری سے بچانا چاہتی تھی۔
پولیس کی اضافی غلطیاں
ایف آئی آر میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک اور غلطی بھی نظر آتی ہے، جہاں ملزم ڈرائیور کے والد کے نام کے ساتھ "صاحب" لکھا گیا ہے۔








