کفیل کی معیت میں یہ سفر بس کے ذریعے تھا، بس فراٹے بھرتی جا رہی تھی کہ ایک جگہ ٹائر پنکچر ہوگیا،ہاتھ اٹھا کر دعائیں اور نبی کریمؐ کی شفاعت مانگتے رہے۔
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 106
حج کے مراحل
10 ذوالحجہ، مزدلفہ سے منیٰ روانہ ہوئے۔ اپنا سامان خیمہ میں رکھّا اور وہاں بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل پورا کیا۔
قربانی …… قربانی ”بینک الراجی“ کے ذریعے ادا کی۔ پھر سر کے بال منڈوائے۔ احرام کھول کر نہا کر سلے ہوئے کپڑے پہن لیے۔
طوافِ زیارت
منیٰ سے طواف زیارت کے لیے مکہ معظمہ کی طرف روانگی۔ حرم پاک میں جا کر کفیل کی سرکردگی میں طواف کے چکرّوں میں رمل کیا اور باقی 4 چکّر استلام کرتے ہوئے پورے کیے۔ آٹھویں مرتبہ استلام کیا۔ پھر ملتزم کے ساتھ چمٹ کر دعائیں مانگیں۔ پھر مقام ابراہیم پر 2 رکعت نماز واجب الطواف ادا کی۔ میں صرف ایک دفعہ حجر اسود کا بوسہ لے سکا۔ لیکن میری دوسری جوان سال بیگم کئی بار بوسہ لینے میں کامیاب ہوئی۔
صفا و مروہ کی سعی
پھر کفیل کی سرکردگی میں صفا و مروہ کی سعی کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں 7 چکّر لگائے۔ ساتھ ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگتے اور درود و سلام اور کلمۂ توحید پڑھتے رہے۔ پھر منیٰ کو واپسی اور 12 ذوالحج تک وہاں قیام رہا。
کنکریاں مارنا
11 ذوالحجہ (حج کا چوتھا دن) زوال کے بعد تینوں شیطانوں کو سات سات کنکریاں ماریں۔
12 ذوالحجہ پہلے کی طرح زوال کے بعد تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماریں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ حج کے مناسک سے فارغ ہوگئے۔
مکہ مکرمہ کی زیارت
13 ذوالحجہ کو بھی کنکریاں مارنے کے لیے منیٰ میں ٹھہرنا افضل ہے پھر مکہ مکرمہ کے لیے بس میں چلے گئے۔ مکہ مکرمہ میں طوافِ کعبہ جاری رہا۔ نمازیں حرم پاک میں با جماعت ادا کرتے رہے۔
طواف و داع
طوافِ وداع کیا۔ دعائیں مانگیں۔ مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھی، زم زم پیا۔ حج مکمل ہوا۔
واپسی
واپسی پر خانہ کعبہ بیت اللہ شریف کو مُڑ مُڑ کر مسلسل دیکھتے ہوئے مسجد حرام سے نکلے اور دعا کرتے رہے کہ یا اللہ آئندہ بھی اپنے گھر اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت نصیب فرماتے رہنا۔
زیارت مدینہ منورہ
کفیل کی معیت میں یہ سفر بس کے ذریعے تھا۔ درود و سلام پڑھتے سبھی روضہ رسول ﷺکی حاضری کا شوق دل میں سمائے بس میں سوار تھے۔ بس فراٹے بھرتی جا رہی تھی کہ ایک جگہ بس کا ٹائر پنکچر ہوگیا تو بس روکنی پڑی اور ٹائر بدلی کرنا پڑا۔ مدینہ منورہ پہنچنے پر گنبد خضریٰ اور مسجد نبوی ﷺ کے مینار نظر پڑے تو درود شریف قدرے اونچی آواز سے سبھی پڑھنے لگے۔ وہاں ہوٹل میں قیام تھا۔ غسل کر کے صاف ستھرے کپڑے پہن کر مسجد نبوی شریف میں 2 رکعت نماز تحیۃّ المسجد ادا کی او ر روضہ رسول ﷺ پر مواجہہ شریف (رخ انور) کے سامنے کھڑے ہو کر با ادب طریقے سے صلوٰۃ و سلام پیش کیا۔
حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا سلام
اس کے داہنی جانب ہٹ کر حضرت ابوبکرؓ پر سلام پیش کیا اور پھر حضرت عمرؓ پر سلام پیش کیا۔ پھر راستے سے ہٹ کر اللہ سے حضور اکرم ﷺ کی شفاعت مانگی اور قبلہ رخ ہو کر دعا مانگی۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران 40 نمازیں پڑھیں اور گاہے بگاہے ریاض الجنۃ میں عبادت کی۔ مسجد قبا میں نوافل ادا کیے اور جبل اُحد کے دامن میں سید الشہداء حضرت حمزہؓ کے مزارِ مقدس کی زیارت کی اور ملک و قوم اُمتِ مسلمہ کے اِستحکام، سلامتی و خوشحالی اور امن و ترقی کی دعا ہر مرحلہ پر کرتے رہے۔
1985ء میں مسجد نبوی ﷺ کے گرد و نواح کی صورتِ حال
بقیع قبرستان اور مسجد نبویؐ کے درمیان آبادی تھی۔ مسجد نبویؐ سے ایک گلی سے گزر کر بقیع قبرستان میں جاتے تھے۔ چنانچہ اس طرح کئی مرتبہ بقیع جانا ہوا اور وہاں دعائے مغفرت کرتے رہے۔ مسجد نبوی ﷺ کے مین گیٹ سے آگے سڑک کے اُس پار بھی ابھی آبادی تھی۔ باقاعدہ بازار تھے اور وہاں جا کر ضرورت کی اشیاء خریدتے رہے اور ہوٹلوں میں کھانا کھاتے رہے۔ مسجد نبوی ﷺ کی توسیع کا کام شروع ہوچکا تھا۔
مسجد نبوی کی توسیع
دوسری سعودی توسیع (1984ء تا 1994ء) شاہ فہد بن عبد العزیز حفظ اللہ کے ہاتھوں سر انجام پائی۔ مسجد نبویؐ کی پوری تاریخ میں یہ سب سے بڑی توسیع شمار کی گئی۔ اس توسیع کے بعد نمازیوں کی گنجائش پہلی سعودی توسیع سمیت پرانی مسجد نبوی کی گنجائش کے مقابلہ میں 9 گنا ہے۔ اس توسیع کا سنگ بنیاد جمعۃ المبارک 2 نومبر 1984ء کو رکھّا گیا اور ابتدائی کام محرم الحرام 1985ء میں شروع ہوا اور اس کی تکمیل 1994ء میں ہوئی۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








