ڈاکٹر لوگوں کی کڈنی غائب کرتا ہے اسے تو 75 سال جیل میں رہنا چاہئے، سپریم کورٹ کے کیس میں ریمارکس
سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پلاسٹک سرجن کے کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے کیخلاف کیس میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر لوگوں کی کڈنی غائب کرتا ہے، اسے تو 75 سال جیل میں رہنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان پھر غیر حاضر، جائیدادوں کی رپورٹ عدالت میں پیش
ملزم کی عدم موجودگی
نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں پلاسٹک سرجن کے کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی، ملزم ڈاکٹر فواد ممتاز عدالت میں پیش نہیں ہوا، وکیل صفائی عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم 4 بنگلہ دیشی باشندوں کی ایران جانے کی کوشش ناکام، ایجنٹس سمیت گرفتار
غیرقانونی سرجری کا انکشاف
ڈائریکٹر لیگل پنجاب عمران احمد نے کہا کہ ملزم اسلام آباد سیکٹر B/17 میں پلاسٹک سرجن غیرقانونی کڈنی ٹرانسپلانٹ کرتے ہوئے گرفتار ہوا، وہاں کوئی آپریشن تھیٹر نہیں تھا۔ ڈاکٹر پہلے بھی ایسے ٹرانسپلانٹ کرتے پکڑا جا چکا ہے۔ ملزم ابھی ضمانت پر ہے اور اس پر متعدد مقدمات ہیں، اس کا ٹرائل چل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان اکرم راجہ کو جب پی ٹی آئی امیدوار نہیں سمجھا تو پھر کیا ہوا وہ بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل
عدالت کی سختی
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ پلاسٹک سرجن کیسے کڈنی ٹرانسپلانٹ کر سکتا ہے؟ ٹرانسپلانٹ تو بہت پیچیدہ ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ڈاکٹر لوگوں کی کڈنی غائب کرتا ہے، اسے تو 75 سال جیل میں رہنا چاہئے، غریب لوگوں کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔
مزید سماعت کی تاریخ
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مریض زندہ ہیں؟ ڈائریکٹر لیگل پنجاب نے کہا کہ مریض ابھی زندہ ہیں، جن کی کڈنی ٹرانسپلانٹ کر رہا تھا۔ کیس کی مزید سماعت 30 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔
ڈاکٹر لوگوں کی کڈنی غائب کرتا ہے، اسے تو 75 سال جیل میں رہنا چاہیے، عدالت سپریم کورٹ میں پلاسٹک سر جن کے کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے کیخلاف کیس #ARYNews pic.twitter.com/CwGPiGY3YO
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) April 6, 2026








