وکیل ہر کوئی بن جاتا ہے مگر قابل وکیل کوئی کوئی بنتا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے راولپنڈی بنچ سے کیس لاہور ہائیکورٹ ٹرانسفر کرنے کی درخواست خارج کردی۔
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے راولپنڈی بنچ سے کیس لاہور ہائیکورٹ ٹرانسفر کرنے کی درخواست خارج کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی چوک احتجاج کیس: شبلی فراز کی 5 مقدمات میں عبوری ضمانتیں منظور
چیف جسٹس کا بیان
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل ہر کوئی بن جاتا ہے مگر قابل وکیل کوئی کوئی بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دو بزرگوں کے درمیان نہر میں تیراکی کی شرط، ایک ڈوب کر جاں بحق
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق راولپنڈی بنچ سے کیس لاہور ہائیکورٹ ٹرانسفر کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: اکشے کھنا اور کرشمہ کپور کی شادی ہوتے ہوتے کیوں رہ گئی تھی؟
عدالت کا سوال
عدالت نے استفسار کیا کہ کیس اٹک کا ہے، راولپنڈی بنچ سے لاہور کیوں ٹرانسفر کروانا چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے فرمایا کہ راولپنڈی بنچ میں بھی ججز کیسز کی سماعت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کیس: علیمہ خان کی عبوری ضمانت میں توسیع
قابل وکیل کی اہمیت
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ قابل وکیل اپنے موکل کو عدالت سے ریلیف کے حصول میں مدد دیتا ہے، جبکہ اس طرح ہر کوئی ٹرانسفر کروا کر پرنسپل سیٹ پر کیس لے آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: ن لیگ، پی پی پاور شیئرنگ کمیٹیوں کے اجلاس کل طلب
وکیل سے سوال
عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنے موکل کو کیوں غلط گائیڈ کیا؟
درخواست گزار کی وجوہات
درخواست گزار نے ذاتی وجوہات پر کیس ٹرانسفر کی استدعا کی تھی، مگر عدالت نے راولپنڈی بنچ سے کیس لاہور ہائیکورٹ ٹرانسفر کرنے کی درخواست خارج کردی۔








