وکیل ہر کوئی بن جاتا ہے مگر قابل وکیل کوئی کوئی بنتا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے راولپنڈی بنچ سے کیس لاہور ہائیکورٹ ٹرانسفر کرنے کی درخواست خارج کردی۔
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے راولپنڈی بنچ سے کیس لاہور ہائیکورٹ ٹرانسفر کرنے کی درخواست خارج کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ایک اور چینی ڈبل کیبنٹ پاکستان میں لانچ کرنے کی تیاری، اس سے زیادہ لگژری ڈالا آپ نے نہیں دیکھا ہوگا۔
چیف جسٹس کا بیان
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل ہر کوئی بن جاتا ہے مگر قابل وکیل کوئی کوئی بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہائے موٹاپا ۔۔۔۔(مسکرائیے )
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق راولپنڈی بنچ سے کیس لاہور ہائیکورٹ ٹرانسفر کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: حمیرا کا فلیٹ مالک سے جھگڑا کب اور کیوں شروع ہوا، واجبات کتنے تھے؟ دستاویزات منظر عام پر
عدالت کا سوال
عدالت نے استفسار کیا کہ کیس اٹک کا ہے، راولپنڈی بنچ سے لاہور کیوں ٹرانسفر کروانا چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے فرمایا کہ راولپنڈی بنچ میں بھی ججز کیسز کی سماعت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیسٹ کرکٹ کا کم ہونا قومی ٹیم کی شکست کا باعث ہے، اظہر محمود
قابل وکیل کی اہمیت
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ قابل وکیل اپنے موکل کو عدالت سے ریلیف کے حصول میں مدد دیتا ہے، جبکہ اس طرح ہر کوئی ٹرانسفر کروا کر پرنسپل سیٹ پر کیس لے آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا اے آر وائی نیوز کے بائیکاٹ کا اعلان
وکیل سے سوال
عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنے موکل کو کیوں غلط گائیڈ کیا؟
درخواست گزار کی وجوہات
درخواست گزار نے ذاتی وجوہات پر کیس ٹرانسفر کی استدعا کی تھی، مگر عدالت نے راولپنڈی بنچ سے کیس لاہور ہائیکورٹ ٹرانسفر کرنے کی درخواست خارج کردی۔








