کل رات سے قبل بہت پر امید تھے مگر دونوں فریقوں کے بیٹھنے کے مرحلے پر اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا، اسحاق ڈار
اسلام آباد میں اسحاق ڈار کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں بڑھتی کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، تاہم حالیہ پیشرفت نے امن کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں ایودھیا رام مندر کے نام پر کروڑوں روپے کا فراڈ، بہانہ ایسا کہ سمجھ نہ آئے کہ ہنسیں یا روئیں
کشیدگی کی نئی لہر
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کل رات سے قبل وہ بہت پرامید تھے مگر حالیہ خطرناک پیشرفت نے حالات کو ایک بار پھر کشیدہ بنا دیا ہے۔ عین اس وقت جب دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے قریب تھے، اسرائیل نے Iran پر حملہ کر دیا، جس کے بعد ایران نے سعودی عرب کے شہر جبیل میں آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس صورتحال نے امن عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 35 نئی ادویات متعارف کرانے کا فیصلہ
پاکستان کا مؤقف
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان وہ واحد مسلم ملک ہے جس نے ایران پر حملے کی کھل کر مذمت کی۔ جب امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ ہوا تو وہ سعودی عرب میں موجود تھے اور انہوں نے مدینہ منورہ سے ہی ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کرکے پاکستان کا مؤقف پہنچایا۔ وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان نے فوری طور پر خطے کے تمام اہم ممالک سے رابطے کا فیصلہ کیا اور جنگ بندی کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: موساد افراد کو نہیں، اُن کے آلات کو ٹریک کرتا ہے، سابق سی آئی اے افسر کا انکشاف
پاکستان کی ثالثی
ان کا کہنا تھا کہ فریقین نے پاکستان کی ثالثی کو قبول کیا اور اسلام آباد میں مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔ پاکستان کو کسی تمغے یا کریڈٹ کی خواہش نہیں بلکہ مقصد صرف خطے میں امن کا قیام ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس حوالے سے بے پناہ کوششیں کیں، انہوں نے خود بھی بطور وزیر خارجہ بھرپور کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جس کے پاس ثبوت کے طور پر ویڈیو نہیں ہوگی تو اسے اگلی بار ٹکٹ نہیں ملے گا – بشریٰ بی بی کی مبینہ آڈیو لیک
امریکہ اور ایران کے درمیان رابطہ
اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ پاکستان نے امریکہ کی 15 نکاتی شرائط ایران تک پہنچائیں جبکہ ایران کی 5 نکاتی تجاویز امریکا کو منتقل کیں، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے امکانات روشن ہوئے اور پیشرفت بھی سامنے آئی۔
عالمی حمایت
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بھی امن ایجنڈے پر مشاورت کی ہے اور عالمی برادری حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایک منفرد مقام دیا ہے اور پاکستان اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔








